جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو

بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

— جمیل الدین عالی

کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوں

کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوں میں اپنے دل کا فسانہ کہوں تو کس سے کہوں نہ اضطراب میں لذت نہ آرزوئے سکوں کوئی کہے کہ میں اب کیا فریب کھا کے جیوں رہے گی پھر نہ یہ کیفیت طلب اے دل چھپے ہوئے ہیں تو ہے اشتیاق دید فزوں ہے آج دل پہ گماں حسن نا شناسی کا جلا چکے جب اسے جلو‌ ہائے گونا گوں ہو اب بھی فکر میں مشکل تو یاد آتے ہیں وہ ہر ادا میں تغزل کے سیکڑوں مضموں تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھر تم سے امید بھی نہ رکھوں ناامید بھی نہ رہوں

— جمیل الدین عالی