سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو
کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں
کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوں میں اپنے دل کا فسانہ کہوں تو کس سے کہوں نہ اضطراب میں لذت نہ آرزوئے سکوں کوئی کہے کہ میں اب کیا فریب کھا کے جیوں رہے گی پھر نہ یہ کیفیت طلب اے دل چھپے ہوئے ہیں تو ہے اشتیاق دید فزوں ہے آج دل پہ گماں حسن نا شناسی کا جلا چکے جب اسے جلو ہائے گونا گوں ہو اب بھی فکر میں مشکل تو یاد آتے ہیں وہ ہر ادا میں تغزل کے سیکڑوں مضموں تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھر تم سے امید بھی نہ رکھوں ناامید بھی نہ رہوں