سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے ہنسی نہیں ہے تو رونے سے ہی قرار آئے ہے ایک نعمت عظمیٰ غم محبت بھی مگر یہ شرط کہ انساں کو سازگار آئے جنون دشت پسندی بتائے دیتا ہے گزارنی تھی جو گھر میں وہ ہم گزار آئے گزارنی ہے مجھے عمر تیرے قدموں میں مجھے نہ کیوں ترے وعدوں پہ اعتبار آئے تمہاری بزم سے آ کر وہی خیال رہا ہم ایک بار گئے تم ہزار بار آئے نگاہ دوست کوئی اور بات ہے ورنہ تو بے قرار کرے اور مجھے قرار آئے ہے مطمئن بھی تو کس کس امید و بیم کے ساتھ وہ نا مراد جسے لطف انتظار آئے بتا گئی ہے جو مجھ کو وہ بے قرار نگاہ نہ کہہ سکوں گا اگر آج بھی قرار آئے یہ امتیاز ہے غالبؔ کے بعد عالیؔ کا کہ جس پہ آپ مرے ہیں اسے بھی مار آئے
تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے
تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئے وہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ مرے وجود میں آ گئے نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکے یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے نہ کر آج ہم سے یہ گفتگو مجھے کیوں ہوئی تری جستجو ارے ہم بھی ایک خیال تھے سو ترے بھی ذہن میں آ گئے جو سنا کہ گھر ترے جائیں گے ترے صحن و باغ سجائیں گے مرے اشک اڑ کے ہوا کے ساتھ انہی بادلوں میں سما گئے دل شب میں صبح کی دھڑکنیں ابھی ابتدائے غزل میں تھیں کہ وہ آئے اور تمام شعر مری ہی دھن میں سنا گئے جو نہ آپ اس پہ ہوئے عیاں یہ رکھے گا ہم کو بھی سر گراں کئی بار لے کے شکایتیں مرے دوست ارض و سما گئے کئی محفلوں میں تو یوں ہوا کہ جب آئے عالؔیٔ خوش ادا جو نہ کھل سکے تو چھپے رہے جو نہ رو سکے تو رلا گئے