سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے
اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے اور جو وہ پوچھیں کہ کیا ہے تو بتائے نہ بنے تم کو آزردگیٔ دل کا مزا کیا معلوم کاش تم سے بھی کوئی کام بنائے نہ بنے تو نے کیوں ان کو غم زیست دیا ہے یا رب جن سے اک رنج محبت بھی اٹھائے نہ بنے ہائے کیا پاس محبت ہے کہ تنہائی میں بھی اشک آنکھوں میں رہے اور بہائے نہ بنے ہم نشیں پوچھ نہ اس بزم کی رسمیں کہ جہاں مجھ سے وحشی کو بھی بن ہوش میں آئے نہ بنے وقت کی چارہ گری یوں تو مسلم ہے مگر زخم بھی وہ ہے کہ تا عمر دبائے نہ بنے یہ بھی اک رسم تماشا ہے وہاں اے عالیؔ دیکھتے رہیے مگر آنکھ اٹھائے نہ بنے
حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا