جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے شاید آغاز بے وفائی ہے تو نہ بدنام ہو اسی خاطر ساری دنیا سے آشنائی ہے کس قدر کش مکش کے بعد کھلا عشق ہی عشق سے رہائی ہے شام غم میں تو چاند ہوں اس کا میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر کوئی تقریب رو نمائی ہے اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم اک سہارا شکستہ پائی ہے جان عالیؔ نہیں پڑی آساں موت رو رو کے مسکرائی ہے

— جمیل الدین عالی

عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے

عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے ان پہ اعتبار آیا خود کو آزمانے سے اس ہجوم میں تجھ کو کیا خبر ہوئی ہوگی کس کو کیا تعلق تھا تیرے آستانے سے یوں سلام آنے پر اک خلش سی ہوتی ہے کاش ہم کو بلواتے وہ کسی بہانے سے ہاں تو ان کی خاطر سے کیوں تراوشیں کرتے جس طرح وہاں گزری کہہ گئے زمانے سے جب بھی بزم عالم میں کوئی فتنہ اٹھتا ہے یا تمہاری محفل سے یا غریب خانے سے سلسلہ یہی ہوگا رخ بدلتے جائیں گے میں تری حقیقت سے تو مرے فسانے سے

— جمیل الدین عالی