جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا

بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا اپنا پیشہ ہی جو ٹھہرا ہے پریشاں ہونا اتنی رسوائیاں سہہ لی ہیں تو اک یہ بھی سہی ہم کو منظور ہے منت کش درباں ہونا تجھ میں کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ظالم ہاں مگر تیرے لیے میرا پریشاں ہونا ہائے اس بزم کے آداب جہاں لازم ہو کبھی حیراں نظر آنا کبھی حیراں ہونا عمر بھر کے لیے کافی ہے وہی ایک جھلک تم کو لازم نہیں ہر شے سے نمایاں ہونا خامشی میری کہیں اور پشیماں نہ کرے تم اگر ہو بھی تو خلوت میں پشیماں ہونا لوگ دیکھیں تو نہ جانے اسے کیا سمجھیں گے آئنہ دیکھنا تیرا مرا حیراں ہونا جیسے ساحل سے چھڑا لیتی ہیں موجیں دامن کتنا سادہ ہے ترا مجھ سے گریزاں ہونا ہیں تیرے رخ پہ وہ تقدیس کے پرتو کہ تجھے زیب دیتا ہی نہیں دشمن ایماں ہونا کیا خبر ان کو کہ ہے کتنا عجیب اے عالیؔ اک گراں شے کا کسی کے لیے ارزاں ہونا

— جمیل الدین عالی

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں سننے والوں غور نہ کرنا سارے راگ پرانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ کھل ہی جائیں گے کتنے خالی بھید ہمارے جو کب سے افسانے ہیں سننے والوں غور نہ کرنا ورنہ پتہ چل جائے گا ہم نے جتنے باغ سجائے وہ اب تک ویرانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ صاف سمجھ لو گے ہم نے جتنے نام لیے تھے آج بھی سب انجانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ خفا ہو جاؤ گے جن کو ہم نے دوست کہا ہے ہم ان سے بیگانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہمیں ٹھکرا دو گے ہم اندر سے سخت کمینے باہر سے دیوانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ہم بے سر ہو جائیں گے جب تک تم سر دھنتے رہو گے سارے گیت سہانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہم خود کہہ دیں گے ہم اب شعر نہیں کہہ سکتے یہ سب شعر بہانے ہیں

— جمیل الدین عالی

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے یا رب مرا جنون محبت جواں رہے یہ بھی سمجھ سکی ہے نہ اب تک نگاہ شوق تم نے کہاں فریب دیا اور کہاں رہے دنیا میں چاک دل کو نہیں پوچھتا کوئی کیا جانے کتنے اہل جنوں بے نشاں رہے اس انجمن میں ہم بھی پہنچ تو گئے مگر جب تک رہے مزاج‌ نظر پر گراں رہے کیا کیا جفائیں کی ہیں ہر اک آرزو کے ساتھ اور اس طرح کہ ان پہ وفا کا گماں رہے اب یوں کرم نہ کر کہ بہ ایں وصف حسن و ناز شاید تجھے بھی عشق کا سودا گراں رہے لینے دے اپنا نام بھی مجھ کو کہ میرے بعد تو بھی مری غزل کے سبب جاوداں رہے

— جمیل الدین عالی