سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا
بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا اپنا پیشہ ہی جو ٹھہرا ہے پریشاں ہونا اتنی رسوائیاں سہہ لی ہیں تو اک یہ بھی سہی ہم کو منظور ہے منت کش درباں ہونا تجھ میں کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ظالم ہاں مگر تیرے لیے میرا پریشاں ہونا ہائے اس بزم کے آداب جہاں لازم ہو کبھی حیراں نظر آنا کبھی حیراں ہونا عمر بھر کے لیے کافی ہے وہی ایک جھلک تم کو لازم نہیں ہر شے سے نمایاں ہونا خامشی میری کہیں اور پشیماں نہ کرے تم اگر ہو بھی تو خلوت میں پشیماں ہونا لوگ دیکھیں تو نہ جانے اسے کیا سمجھیں گے آئنہ دیکھنا تیرا مرا حیراں ہونا جیسے ساحل سے چھڑا لیتی ہیں موجیں دامن کتنا سادہ ہے ترا مجھ سے گریزاں ہونا ہیں تیرے رخ پہ وہ تقدیس کے پرتو کہ تجھے زیب دیتا ہی نہیں دشمن ایماں ہونا کیا خبر ان کو کہ ہے کتنا عجیب اے عالیؔ اک گراں شے کا کسی کے لیے ارزاں ہونا
یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں
یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں سننے والوں غور نہ کرنا سارے راگ پرانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ کھل ہی جائیں گے کتنے خالی بھید ہمارے جو کب سے افسانے ہیں سننے والوں غور نہ کرنا ورنہ پتہ چل جائے گا ہم نے جتنے باغ سجائے وہ اب تک ویرانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ صاف سمجھ لو گے ہم نے جتنے نام لیے تھے آج بھی سب انجانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ خفا ہو جاؤ گے جن کو ہم نے دوست کہا ہے ہم ان سے بیگانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہمیں ٹھکرا دو گے ہم اندر سے سخت کمینے باہر سے دیوانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ہم بے سر ہو جائیں گے جب تک تم سر دھنتے رہو گے سارے گیت سہانے ہیں سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہم خود کہہ دیں گے ہم اب شعر نہیں کہہ سکتے یہ سب شعر بہانے ہیں
بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے
بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے یا رب مرا جنون محبت جواں رہے یہ بھی سمجھ سکی ہے نہ اب تک نگاہ شوق تم نے کہاں فریب دیا اور کہاں رہے دنیا میں چاک دل کو نہیں پوچھتا کوئی کیا جانے کتنے اہل جنوں بے نشاں رہے اس انجمن میں ہم بھی پہنچ تو گئے مگر جب تک رہے مزاج نظر پر گراں رہے کیا کیا جفائیں کی ہیں ہر اک آرزو کے ساتھ اور اس طرح کہ ان پہ وفا کا گماں رہے اب یوں کرم نہ کر کہ بہ ایں وصف حسن و ناز شاید تجھے بھی عشق کا سودا گراں رہے لینے دے اپنا نام بھی مجھ کو کہ میرے بعد تو بھی مری غزل کے سبب جاوداں رہے