جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

خیال کا پیش کردہ کلام

جو بولے مارا جائے

وقت نے پوچھا کیا تم مجھ کو جانتے ہو ہاں کیا تم مجھ کو مانتے ہو ناں کیا مطلب ہے کیا مطلب تھا وقت بھی چپ ہے جانے وہ کب کیا بولے گا آج کی کتنی باتوں کو بھی کیسے کیسے بدلنے والے بنتے بنتے غم سے خوشی سے اور حیرت سے اپنی آنکھیں ملنے والے میزانوں میں ڈنڈی مار کے یا سچائی سے تولے گا اور پھر میں بھی چپ نہ رہوں گا لیکن جو اس وقت مجھے بھی کہنا لازم ہو وہ کہہ نہ سکوں گا شاید وہ سب سہہ نہ سکوں گا ہاں بھئی لے اس لمحے میں تجھ کو مانتا بھی ہوں اب یہ چھوڑ کہ جانتا بھی ہوں جو تو چاہے آج بتا دے ورنہ مجھ کو ابھی بھلا دے کون اب کیا کیا کس کو سکھائے جو بولے وہ مارا جائے اے میراؔ جی آپ کو تو سب بھول گئے ہیں آپ یہاں اور مجھ جیسے معتوب زماں کو آخر اک دم کیوں یاد آئے

— جمیل الدین عالی