سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ نعیم
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
خیال
راجا اکرام قمر
زین چوہدری
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
فخر
ملک
مہرزادہ
نایاب
ندیم بخاری
خیال کا پیش کردہ کلام
جو بولے مارا جائے
وقت نے پوچھا کیا تم مجھ کو جانتے ہو ہاں کیا تم مجھ کو مانتے ہو ناں کیا مطلب ہے کیا مطلب تھا وقت بھی چپ ہے جانے وہ کب کیا بولے گا آج کی کتنی باتوں کو بھی کیسے کیسے بدلنے والے بنتے بنتے غم سے خوشی سے اور حیرت سے اپنی آنکھیں ملنے والے میزانوں میں ڈنڈی مار کے یا سچائی سے تولے گا اور پھر میں بھی چپ نہ رہوں گا لیکن جو اس وقت مجھے بھی کہنا لازم ہو وہ کہہ نہ سکوں گا شاید وہ سب سہہ نہ سکوں گا ہاں بھئی لے اس لمحے میں تجھ کو مانتا بھی ہوں اب یہ چھوڑ کہ جانتا بھی ہوں جو تو چاہے آج بتا دے ورنہ مجھ کو ابھی بھلا دے کون اب کیا کیا کس کو سکھائے جو بولے وہ مارا جائے اے میراؔ جی آپ کو تو سب بھول گئے ہیں آپ یہاں اور مجھ جیسے معتوب زماں کو آخر اک دم کیوں یاد آئے