جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں وہ مجھ پہ ستم جب کرتے ہیں تصویر کرم بن جاتے ہیں اب آپ عنایت کرنے کی تکلیف ہی کیوں فرماتے ہیں دن یوں بھی گزرنے ہی ٹھہرے دن یوں بھی گزر ہی جاتے ہیں اللہ رے خس و خاشاک سے یہ ہنس ہنس کے چٹانوں کا کہنا وہ طوفاں کو کیا سمجھیں گے جو طوفاں میں بہہ جاتے ہیں اک سمت مسلسل امیدیں اک سمت مسلسل محرومی کب تک یہ اٹھے بار ہستی شانے ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں اب ایسی کرم کی باتوں سے دبتی ہیں کہیں دل کی چوٹیں تم جتنا مٹاتے جاتے ہو یہ نقش ابھرتے آتے ہیں اس دور پریشانی میں کبھی وہ وقت بھی آتا ہے عالیؔ کچھ دل بھی دھوکے کھاتا ہے کچھ وہ بھی کرم فرماتے ہیں

— جمیل الدین عالی

ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ

ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ اگر بجھا ہے کہیں دل تو جل اٹھا ہے دماغ وہی حیات جو نیرنگ خار و گل ہے کبھی کبھی کھلائے تمنا ہے جو نہ دشت نہ باغ جہاں بھی کھوئے گئے قافلے ارادوں کے وہیں سے مجھ کو ملا تیری انجمن کا سراغ گزر رہی ہے عجب طرح زندگی عالیؔ نہ بجھ رہا ہے چراغ اور نہ جل رہا ہے چراغ

— جمیل الدین عالی