وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہو

چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہو کوئی رشتہ ذرا سی ضد کی خاطر رائیگاں کیوں ہو میں زندہ ہوں تو اس زندہ ضمیری کی بدولت ہی جو بولے تیرے لہجے میں بھلا میری زباں کیوں ہو سوال آخر یہ اک دن دیکھنا ہم ہی اٹھائیں گے نہ سمجھے جو زمیں کے غم وہ اپنا آسماں کیوں ہو ہماری گفتگو کی اور بھی سمتیں بہت سی ہیں کسی کا دل دکھانے ہی کو پھر اپنی زباں کیوں ہو بکھر کر رہ گیا ہمسائیگی کا خواب ہی ورنہ دیئے اس گھر میں روشن ہوں تو اس گھر میں دھواں کیوں ہو محبت آسماں کو جب زمیں کرنے کی ضد ٹھہری تو پھر بزدل اصولوں کی شرافت درمیاں کیوں ہو امیدیں ساری دنیا سے وسیمؔ اور خود میں ایسے غم کسی پہ کچھ نہ ظاہر ہو تو کوئی مہرباں کیوں ہو

— وسیم بریلوی