وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی

حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی تو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتی ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی ہمیں جو خود میں سمٹنے کا فن نہیں آتا تو آج ایسی تری سلطنت نہیں ہوتی وسیمؔ شہر میں سچائیوں کے لب ہوتے تو آج خبروں میں سب خیریت نہیں ہوتی

— وسیم بریلوی

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے کوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتا کہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے بچھڑ کے تجھ سے کچھ جانا اگر تو اس قدر جانا وہ مٹی ہوں جسے دریا کنارے چھوڑ دیتا ہے محبت میں ذرا سی بے وفائی تو ضروری ہے وہی اچھا بھی لگتا ہے جو وعدے توڑ دیتا ہے

— وسیم بریلوی

دیوانے کی جنت

میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو اپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئی اپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئے اپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئے اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئے دل کی دھڑکن کو بہت روکتی سمجھاتی ہوئی اپنی پائل کی غزل خوانی پہ جھلاتی ہوئی نرم شانوں پہ جوانی کا نیا بار لئے شوخ آنکھوں میں حجابات سے انکار لئے تیز نبضوں میں ملاقات کے آثار لئے کالے بالوں سے بکھرتی ہوئی چمپا کی مہک سرخ عارض پہ دمکتے ہوئے شالوں کی چمک نیچی نظروں میں سمائی ہوئی خوددار جھجک نقرئی جسم پہ وہ چاند کی کرنوں کی پھوار چاندنی رات میں بجھتا ہوا پلکوں کا ستار فرط جذبات سے مہکی ہوئی سانسوں کی قطار دور ماضی کی بد انجام روایات لئے نیچی نظریں وہی احساس ملاقات لئے وہی ماحول وہی تاروں بھری رات لئے آج تم آئی ہو دہراتی ہوئی ماضی کو میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو کاش اک خواب رہے تلخ حقیقت نہ بنے یہ ملاقات بھی دیوانے کی جنت نہ بنے

— وسیم بریلوی