سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی تو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتی ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی ہمیں جو خود میں سمٹنے کا فن نہیں آتا تو آج ایسی تری سلطنت نہیں ہوتی وسیمؔ شہر میں سچائیوں کے لب ہوتے تو آج خبروں میں سب خیریت نہیں ہوتی
جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے
جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے کوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتا کہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے بچھڑ کے تجھ سے کچھ جانا اگر تو اس قدر جانا وہ مٹی ہوں جسے دریا کنارے چھوڑ دیتا ہے محبت میں ذرا سی بے وفائی تو ضروری ہے وہی اچھا بھی لگتا ہے جو وعدے توڑ دیتا ہے
دیوانے کی جنت
میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو اپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئی اپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئے اپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئے اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئے دل کی دھڑکن کو بہت روکتی سمجھاتی ہوئی اپنی پائل کی غزل خوانی پہ جھلاتی ہوئی نرم شانوں پہ جوانی کا نیا بار لئے شوخ آنکھوں میں حجابات سے انکار لئے تیز نبضوں میں ملاقات کے آثار لئے کالے بالوں سے بکھرتی ہوئی چمپا کی مہک سرخ عارض پہ دمکتے ہوئے شالوں کی چمک نیچی نظروں میں سمائی ہوئی خوددار جھجک نقرئی جسم پہ وہ چاند کی کرنوں کی پھوار چاندنی رات میں بجھتا ہوا پلکوں کا ستار فرط جذبات سے مہکی ہوئی سانسوں کی قطار دور ماضی کی بد انجام روایات لئے نیچی نظریں وہی احساس ملاقات لئے وہی ماحول وہی تاروں بھری رات لئے آج تم آئی ہو دہراتی ہوئی ماضی کو میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہو کاش اک خواب رہے تلخ حقیقت نہ بنے یہ ملاقات بھی دیوانے کی جنت نہ بنے