سپیکرز
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا بس اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر مرا میزباں نہیں ہوتا ترا خیال نہ ہوتا تو کون سمجھاتا زمیں نہ ہو تو کوئی آسماں نہیں ہوتا میں اس کو بھول گیا ہوں یہ کون مانے گا کسی چراغ کے بس میں دھواں نہیں ہوتا وسیمؔ صدیوں کی آنکھوں سے دیکھیے مجھ کو وہ لفظ ہوں جو کبھی داستاں نہیں ہوتا
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہ مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گے میں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر نہیں ہوتا ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے کسی فقیر کو شاہوں کا ڈر نہیں ہوتا میں اس مکان میں رہتا ہوں اور زندہ ہوں وسیمؔ جس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے مگر دیئے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنی میں تیری شام ہوں آ جا مری سحر کر دے جدائیوں کی یہ راتیں تو کاٹنی ہوں گی کہانیوں کو کوئی کیسے مختصر کر دے ترے خیال کے ہاتھوں کچھ ایسا بکھرا ہوں کہ جیسا بچہ کتابیں ادھر ادھر کر دے وسیمؔ کس نے کہا تھا کہ یوں غزل کہہ کر یہ پھول جیسی زمیں آنسوؤں سے تر کر دے