وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افراسیاب کا پیش کردہ کلام

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا بس اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر مرا میزباں نہیں ہوتا ترا خیال نہ ہوتا تو کون سمجھاتا زمیں نہ ہو تو کوئی آسماں نہیں ہوتا میں اس کو بھول گیا ہوں یہ کون مانے گا کسی چراغ کے بس میں دھواں نہیں ہوتا وسیمؔ صدیوں کی آنکھوں سے دیکھیے مجھ کو وہ لفظ ہوں جو کبھی داستاں نہیں ہوتا

— وسیم بریلوی

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہ مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گے میں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر نہیں ہوتا ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے کسی فقیر کو شاہوں کا ڈر نہیں ہوتا میں اس مکان میں رہتا ہوں اور زندہ ہوں وسیمؔ جس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا

— وسیم بریلوی

مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے

مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے مگر دیئے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنی میں تیری شام ہوں آ جا مری سحر کر دے جدائیوں کی یہ راتیں تو کاٹنی ہوں گی کہانیوں کو کوئی کیسے مختصر کر دے ترے خیال کے ہاتھوں کچھ ایسا بکھرا ہوں کہ جیسا بچہ کتابیں ادھر ادھر کر دے وسیمؔ کس نے کہا تھا کہ یوں غزل کہہ کر یہ پھول جیسی زمیں آنسوؤں سے تر کر دے

— وسیم بریلوی