سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا
اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا جس رشتے کی خاطر مجھ سے دنیا نے منہ موڑ لیا بڑی بڑی خوشیوں کو ہاں نزدیک سے جا کر دیکھا تو میں نے راہ کے چلتے پھرتے دکھ سے ناطہ جوڑ لیا میں کتنے رنگوں میں ڈھلتا کب تک خود سے لڑ پاتا جیون ایک سفر تھا جس نے روز نیا اک موڑ لیا ایسے شخص کو میر بنایا جو بس خواب دکھاتا تھا بستی کے لوگوں نے اپنا آپ مقدر پھوڑ لیا میں تو بھولا بھالا وسیمؔ اور وہ فن کار سیاست کا اس کے جب گھٹنے کی باری آئی مجھ کو جوڑ لیا
میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا
میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا اب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گا یہ ایک میلہ ہے وعدہ کسی سے کیا لے گا ڈھلے گا دن تو ہر اک اپنا راستہ لے گا میں بجھ گیا تو ہمیشہ کو بجھ ہی جاؤں گا کوئی چراغ نہیں ہوں کہ پھر جلا لے گا کلیجہ چاہئے دشمن سے دشمنی کے لئے جو بے عمل ہے وہ بدلہ کسی سے کیا لے گا میں اس کا ہو نہیں سکتا بتا نہ دینا اسے لکیریں ہاتھ کی اپنی وہ سب جلا لے گا ہزار توڑ کے آ جاؤں اس سے رشتہ وسیمؔ میں جانتا ہوں وہ جب چاہے گا بلا لے گا
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتا محبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے