وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا

اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا جس رشتے کی خاطر مجھ سے دنیا نے منہ موڑ لیا بڑی بڑی خوشیوں کو ہاں نزدیک سے جا کر دیکھا تو میں نے راہ کے چلتے پھرتے دکھ سے ناطہ جوڑ لیا میں کتنے رنگوں میں ڈھلتا کب تک خود سے لڑ پاتا جیون ایک سفر تھا جس نے روز نیا اک موڑ لیا ایسے شخص کو میر بنایا جو بس خواب دکھاتا تھا بستی کے لوگوں نے اپنا آپ مقدر پھوڑ لیا میں تو بھولا بھالا وسیمؔ اور وہ فن کار سیاست کا اس کے جب گھٹنے کی باری آئی مجھ کو جوڑ لیا

— وسیم بریلوی

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا اب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گا یہ ایک میلہ ہے وعدہ کسی سے کیا لے گا ڈھلے گا دن تو ہر اک اپنا راستہ لے گا میں بجھ گیا تو ہمیشہ کو بجھ ہی جاؤں گا کوئی چراغ نہیں ہوں کہ پھر جلا لے گا کلیجہ چاہئے دشمن سے دشمنی کے لئے جو بے عمل ہے وہ بدلہ کسی سے کیا لے گا میں اس کا ہو نہیں سکتا بتا نہ دینا اسے لکیریں ہاتھ کی اپنی وہ سب جلا لے گا ہزار توڑ کے آ جاؤں اس سے رشتہ وسیمؔ میں جانتا ہوں وہ جب چاہے گا بلا لے گا

— وسیم بریلوی

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتا محبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے

— وسیم بریلوی