وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگے لوگوں کو جب آپس میں لڑانا نہیں آتا ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانے آنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا تاریخ کی آنکھوں میں دھواں ہو گئے خود ہی تم کو تو کوئی گھر بھی جلانا نہیں آتا

— وسیم بریلوی

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہ ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے انہیں قریب نہ ہونے دیا کبھی میں نے جو دوستی میں حدیں بھول جانے والے تھے میں جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا کچھ ایسے لوگ مرا گھر جلانے والے تھے ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہمیں وہی ملے جو بہت یاد آنے والے تھے وسیمؔ کیسی تعلق کی راہ تھی جس میں وہی ملے جو بہت دل دکھانے والے تھے

— وسیم بریلوی

مامتا

وہ جذبہ جو نسائی جذبوں کی مُنتہا ہے دُنیا میں نام اس کا اک ماں کی مامتا ہے آغوشِ ناز گنجِ اقبال سے بھرا ہے یا خوابِ رُوح مستِ تعبیر ہو رہا ہے رہ رہ کے مامتا کا اظہار کر رہی ہے بے تاب ہو رہی ہے اور پیار کر رہی ہے جذبات مادری کا اعجاز کہئے اس کو روحانیت سے لبریز اک ساز کہئے اس کو حوّا کے سوزِ جاں کی پرواز کہئے اس کو فطرت کے دردِ دل کی آواز کہئے اس کو الفت کی انتہائیں چہرے پہ چھا گئی ہیں دل کی اُمیدیں کھنچ کر چہرے پہ آ گئی ہیں جو نونہال زیبِ آغوشِ مدعا ہے ! اک پاک راز بن کر سینے میں رہ چکا ہے ! اب بھی مگر یہ عالم اک ماں کے پیار کا ہے ! گویا وہ راز اس کے دل میں ہی سو رہا ہے ! دیوانہ وار اس کے گالوں کو چومتی ہے! آنکھوں کو چومتی ہے ، بالوں کو چومتی ہے ! دنیا یہی ہے اور اس کی دین بھی یہی ہے پہلوئے سادگی کی تزئین بھی یہی ہے غم ہائے زندگی میں تسکین بھی یہی ہے ہاں ماں کی مامتا کا آئین بھی یہی ہے بچے سے خوش پر اُن کے خوابوں میں کھو رہی ہے اک آںکھ ہنس رہی ہے اک آنکھ رو رہی ہے ​

— اختر شیرانی