سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگے لوگوں کو جب آپس میں لڑانا نہیں آتا ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانے آنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا تاریخ کی آنکھوں میں دھواں ہو گئے خود ہی تم کو تو کوئی گھر بھی جلانا نہیں آتا
بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے
بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہ ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے انہیں قریب نہ ہونے دیا کبھی میں نے جو دوستی میں حدیں بھول جانے والے تھے میں جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا کچھ ایسے لوگ مرا گھر جلانے والے تھے ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہمیں وہی ملے جو بہت یاد آنے والے تھے وسیمؔ کیسی تعلق کی راہ تھی جس میں وہی ملے جو بہت دل دکھانے والے تھے
مامتا
وہ جذبہ جو نسائی جذبوں کی مُنتہا ہے دُنیا میں نام اس کا اک ماں کی مامتا ہے آغوشِ ناز گنجِ اقبال سے بھرا ہے یا خوابِ رُوح مستِ تعبیر ہو رہا ہے رہ رہ کے مامتا کا اظہار کر رہی ہے بے تاب ہو رہی ہے اور پیار کر رہی ہے جذبات مادری کا اعجاز کہئے اس کو روحانیت سے لبریز اک ساز کہئے اس کو حوّا کے سوزِ جاں کی پرواز کہئے اس کو فطرت کے دردِ دل کی آواز کہئے اس کو الفت کی انتہائیں چہرے پہ چھا گئی ہیں دل کی اُمیدیں کھنچ کر چہرے پہ آ گئی ہیں جو نونہال زیبِ آغوشِ مدعا ہے ! اک پاک راز بن کر سینے میں رہ چکا ہے ! اب بھی مگر یہ عالم اک ماں کے پیار کا ہے ! گویا وہ راز اس کے دل میں ہی سو رہا ہے ! دیوانہ وار اس کے گالوں کو چومتی ہے! آنکھوں کو چومتی ہے ، بالوں کو چومتی ہے ! دنیا یہی ہے اور اس کی دین بھی یہی ہے پہلوئے سادگی کی تزئین بھی یہی ہے غم ہائے زندگی میں تسکین بھی یہی ہے ہاں ماں کی مامتا کا آئین بھی یہی ہے بچے سے خوش پر اُن کے خوابوں میں کھو رہی ہے اک آںکھ ہنس رہی ہے اک آنکھ رو رہی ہے