سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہری نشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں وسیمؔ کچھ پتہ ہو تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو وہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہو ہوا خلاف ہو موجوں پہ اختیار نہ ہو یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار نہ ہو میں گاؤں لوٹ رہا ہوں بہت دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار نہ ہو ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار نہ ہو دکھی سماج میں آنسو بھرے زمانے میں اسے یہ کون بتائے کہ اشک بار نہ ہو گناہ گاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہو وسیمؔ آج کہیں تم بھی سنگسار نہ ہو
میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا
میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا مگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتا کسی کے چہرے کو کب تک نگاہ میں رکھوں سفر میں ایک ہی منظر تو رہ نہیں سکتا یہ آزمانے کی فرصت تجھے کبھی مل جائے میں آنکھوں آنکھوں میں کیا بات کہہ نہیں سکتا سہارا لینا ہی پڑتا ہے مجھ کو دریا کا میں ایک قطرہ ہوں تنہا تو بہہ نہیں سکتا لگا کے دیکھ لے جو بھی حساب آتا ہو مجھے گھٹا کے وہ گنتی میں رہ نہیں سکتا یہ چند لمحوں کی بے اختیاریاں ہیں وسیمؔ گنہ سے رشتہ بہت دیر رہ نہیں سکتا