وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہری نشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں وسیمؔ کچھ پتہ ہو تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں

— وسیم بریلوی

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو وہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہو ہوا خلاف ہو موجوں پہ اختیار نہ ہو یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار نہ ہو میں گاؤں لوٹ رہا ہوں بہت دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار نہ ہو ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار نہ ہو دکھی سماج میں آنسو بھرے زمانے میں اسے یہ کون بتائے کہ اشک بار نہ ہو گناہ گاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہو وسیمؔ آج کہیں تم بھی سنگسار نہ ہو

— وسیم بریلوی

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا مگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتا کسی کے چہرے کو کب تک نگاہ میں رکھوں سفر میں ایک ہی منظر تو رہ نہیں سکتا یہ آزمانے کی فرصت تجھے کبھی مل جائے میں آنکھوں آنکھوں میں کیا بات کہہ نہیں سکتا سہارا لینا ہی پڑتا ہے مجھ کو دریا کا میں ایک قطرہ ہوں تنہا تو بہہ نہیں سکتا لگا کے دیکھ لے جو بھی حساب آتا ہو مجھے گھٹا کے وہ گنتی میں رہ نہیں سکتا یہ چند لمحوں کی بے اختیاریاں ہیں وسیمؔ گنہ سے رشتہ بہت دیر رہ نہیں سکتا

— وسیم بریلوی