وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے وقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے آنکھیں منظر ہوئیں کان نغمہ ہوئے گھر کے انداز ہی گھر سے جاتے رہے شام آئی تو بچھڑے ہوئے ہم سفر آنسوؤں سے ان آنکھوں میں آتے رہے ننھے بچوں نے چھو بھی لیا چاند کو بوڑھے بابا کہانی سناتے رہے دور تک ہاتھ میں کوئی پتھر نہ تھا پھر بھی ہم جانے کیوں سر بچاتے رہے شاعری زہر تھی کیا کریں اے وسیمؔ لوگ پیتے رہے ہم پلاتے رہے

— وسیم بریلوی

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتا محبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے

— وسیم بریلوی