سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے یہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتے یہ لوگ اوروں کے دکھ جینے نکل آئے ہیں سڑکوں پر اگر اپنا ہی غم ہوتا تو یوں دھرنے نہیں دیتے یہی قطرہ جو دم اپنا دکھانے پر اتر آتے سمندر ایسی من مانی تجھے کرنے نہیں دیتے قلم میں تو اٹھا کے جانے کب کا رکھ چکا ہوتا مگر تم ہو کے قصہ مختصر کرنے نہیں دیتے ہمیں ان سے امیدیں آسماں چھونے کی کرتے ہیں ہمیں بچوں کو اپنے فیصلے کرنے نہیں دیتے
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا ہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح ہمیں یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا وسیمؔ دیکھنا مڑ مڑ کے وہ اسی کی طرف کسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا اک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہے چاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گا قطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا گمراہ کئے ہوں گے کئی پھول سے جذبے ایسے تو کوئی راہنما ہو نہیں سکتا قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہے جو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا اے پیار ترے حصے میں آیا تری قسمت وہ درد جو چہروں سے ادا ہو نہیں سکتا