وسیم بریلوی

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی

10 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہے ہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے پھول سے رنگ جدا ہونا کوئی کھیل نہیں اپنی مٹی کو کہیں چھوڑ کے جائیں کیسے کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گا ایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے جس نے دانستہ کیا ہو نظر انداز وسیمؔ اس کو کچھ یاد دلائیں تو دلائیں کیسے

— وسیم بریلوی

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری میں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

— وسیم بریلوی

تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا

تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا وہ فاصلہ جو ترے میرے درمیان میں تھا پروں میں سمٹا تو ٹھوکر میں تھا زمانے کی اڑا تو ایک زمانہ مری اڑان میں تھا اسی پہ ہو گیا قربان دو دلوں کا ملاپ وہ جائیداد کا جھگڑا جو خاندان میں تھا تجھے گنوا کے کئی بار یہ خیال آیا تری انا ہی میں کچھ تھا نہ میری آن میں تھا

— وسیم بریلوی