سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہے ہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے پھول سے رنگ جدا ہونا کوئی کھیل نہیں اپنی مٹی کو کہیں چھوڑ کے جائیں کیسے کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گا ایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے جس نے دانستہ کیا ہو نظر انداز وسیمؔ اس کو کچھ یاد دلائیں تو دلائیں کیسے
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری میں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا
تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا وہ فاصلہ جو ترے میرے درمیان میں تھا پروں میں سمٹا تو ٹھوکر میں تھا زمانے کی اڑا تو ایک زمانہ مری اڑان میں تھا اسی پہ ہو گیا قربان دو دلوں کا ملاپ وہ جائیداد کا جھگڑا جو خاندان میں تھا تجھے گنوا کے کئی بار یہ خیال آیا تری انا ہی میں کچھ تھا نہ میری آن میں تھا