سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں
جلووں سے مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں وہ پھر مجھے دیوانہ بنانے میں لگے ہیں مر مر کے کئے جاتے ہیں ہم یاد انہیں یاں اور وہ ہمیں واں دل سے بھلانے میں لگے ہیں وہ آئے کرے کون پذیرائی اب ان کی ارماں تو یہاں دھوم مچانے میں لگے ہیں پھر دشت طلب آج ہے بے باکی پہ مائل وہ دامن ناز اپنا چھڑانے میں لگے ہیں میں ہوں کہ مٹا جاتا ہوں ہر بات پہ ان کی اور وہ ہیں کہ دل میرا دکھانے میں لگے ہیں ساحرؔ جنہیں میں نے دیا محبوبی کا رتبہ وہ نام و نشاں میرا مٹانے میں لگے ہیں
برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے
برباد محبت کا بس اتنا فسانہ ہے رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے کچھ کم نہ تھا ان کا غم اس پر غم ہستی بھی مر مر کے سہی لیکن یہ بوجھ اٹھانا ہے کل مجھ کو تھا غم ان کا اب ان کو ہے غم میرا اک وہ بھی زمانہ تھا اک یہ بھی زمانہ ہے یکتائی و کثرت میں ہے فرق تو بس اتنا سمٹے تو مرا دل ہے پھیلے تو زمانہ ہے اللہ عجب شے ہے یہ جذب محبت بھی دیکھیں وہ کسی جانب دل میرا نشانہ ہے چھایا ہوا ہر شے پر عالم ہے جوانی کا جوبن پہ ہے فصل گل مٹنے کا زمانہ ہے اس دکھ بھری دنیا کی اوقات بس اتنی ہے دیکھو تو حقیقت ہے سمجھو تو فسانہ ہے وہ دور ہوس کا تھا یہ دور محبت ہے جب غم کو بھلاتے تھے اب خود کو بھلانا ہے باقی نہ کہیں دل میں رہ جائے کوئی ارماں تھوڑا سا بھٹک بھی لیں منزل پہ تو آنا ہے تھے غالبؔ و مومنؔ بھی یکتائے جہاں لیکن وہ ان کا زمانہ تھا یہ میرا زمانہ ہے دم لینے بھی دے ساحرؔ ظالم یہ غم دوراں بربادیٔ الفت پر دو اشک بہانا ہے