سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج
پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج دنیا مرے سکوں کی لٹی جا رہی ہے آج ضبط ہوس کی خیر ہو کیوں طبع نا مراد پھر وضع احتیاط سے گھبرا رہی ہے آج بندہ نوازیوں کی خلش طبع ناز کو پھر خدمت نیاز پہ اکسا رہی ہے آج اللہ رے رعب حسن کہ بزم نشاط میں ہر شے لب خموش بنی جا رہی ہے آج اس پیکر شباب کہ نخوت بھری نظر ہر دعوائے ثبات کو ٹھکرا رہی ہے آج ساحرؔ نہ جانے کیا ہو اب انجام ضبط شوق پھر یاد ان کی درد کو تڑپا رہی ہے آج
میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن
میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن مجھ کو آیا نہیں مرنے کا مزا کون سے دن راس آئی مجھے فرقت کی ہوا کون سے دن میں نے مانگی نہیں مرنے کی دعا کون سے دن کب ہری ہوگی تمناؤں کی کھیتی یا رب چھائے گی جھوم کے رحمت کی گھٹا کون سے دن ہے یہی وقت کرم کا کہ ہوں خود سے بیزار کام آئے گی تری شان عطا کون سے دن کس لئے توڑ دیا آسرا تم نے دل کا میں نے چاہا تھا وفاؤں کا صلہ کون سے دن آئیں گے جب مرے پہلو میں وہ شرمائے ہوئے وہ گھڑی آئے گی اے میرے خدا کون سے دن میں تو تیار ہوں مٹنے کو تم آواز تو دو آزماؤ گے تم اب میری وفا کون سے دن مجھ کو کھچوائے گی کب دار پہ وحشت ساحرؔ پاؤں گا اپنی محبت کا صلہ کون سے دن