سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے
ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے نظریں ملتی ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے دل جلوں کے لئے گھبرا کے غم فرقت سے جان دے دینا بڑی بات نہیں ہوتی ہے مل گیا مجھ کو جو ملنا تھا تری الفت میں غم سے بڑھ کر کوئی سوغات نہیں ہوتی ہے مجھ کو لے چل دل بیتاب وہاں پر کہ جہاں دن ہی رہتا ہے اور رات نہیں ہوتی ہے تاڑنے کا نہیں تم ہی کو سلیقہ ورنہ کب نظر حائل جذبات نہیں ہوتی ہے جان دینا جسے آتا ہو رہ الفت میں اس کی قسمت میں کبھی مات نہیں ہوتی ہے دن تو کٹ جاتا ہے فرقت کا مگر اے ساحرؔ کسی صورت سے بسر رات نہیں ہوتی ہے
اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے
اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے نگاہ ناز کی نفرت بھی لوٹ لی میں نے خود اپنی ذات سے بھی کر کے دشمنی میں نے نباہ دی غم فرقت سے دوستی میں نے تڑپ کے پرسش غم پر وہ آہ کی میں نے دل تباہ کی تصویر کھینچ دی میں نے شمع امید کی گل کر کے روشنی میں نے نشاط غم کی نئی راہ ڈھونڈھ لی میں نے غضب ہے اس کو خبر تک نہ ہو کہ جس کے لئے تڑپ تڑپ کے شب غم گزار دی میں نے کسی کے سوز محبت کی آنچ دے دے کر غم حیات کی رنگت نکھار دی میں نے مزا ملا ہے تڑپنے کا جب سے فرقت میں ترے کرم کی تمنا بھی چھوڑ دی میں نے تماشا اپنی تباہی کا خوب دیکھ لیا نثار کر کے ترے غم پہ ہر خوشی میں نے فسانۂ غم فرقت نہ پوچھئے ساحرؔ گزارنا تھی شب غم گزار دی میں نے