ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے

ان سے پہلی سی ملاقات نہیں ہوتی ہے نظریں ملتی ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے دل جلوں کے لئے گھبرا کے غم فرقت سے جان دے دینا بڑی بات نہیں ہوتی ہے مل گیا مجھ کو جو ملنا تھا تری الفت میں غم سے بڑھ کر کوئی سوغات نہیں ہوتی ہے مجھ کو لے چل دل بیتاب وہاں پر کہ جہاں دن ہی رہتا ہے اور رات نہیں ہوتی ہے تاڑنے کا نہیں تم ہی کو سلیقہ ورنہ کب نظر حائل جذبات نہیں ہوتی ہے جان دینا جسے آتا ہو رہ الفت میں اس کی قسمت میں کبھی مات نہیں ہوتی ہے دن تو کٹ جاتا ہے فرقت کا مگر اے ساحرؔ کسی صورت سے بسر رات نہیں ہوتی ہے

— ساحر بھوپالی

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے نگاہ ناز کی نفرت بھی لوٹ لی میں نے خود اپنی ذات سے بھی کر کے دشمنی میں نے نباہ دی غم فرقت سے دوستی میں نے تڑپ کے پرسش غم پر وہ آہ کی میں نے دل تباہ کی تصویر کھینچ دی میں نے شمع امید کی گل کر کے روشنی میں نے نشاط غم کی نئی راہ ڈھونڈھ لی میں نے غضب ہے اس کو خبر تک نہ ہو کہ جس کے لئے تڑپ تڑپ کے شب غم گزار دی میں نے کسی کے سوز محبت کی آنچ دے دے کر غم حیات کی رنگت نکھار دی میں نے مزا ملا ہے تڑپنے کا جب سے فرقت میں ترے کرم کی تمنا بھی چھوڑ دی میں نے تماشا اپنی تباہی کا خوب دیکھ لیا نثار کر کے ترے غم پہ ہر خوشی میں نے فسانۂ غم فرقت نہ پوچھئے ساحرؔ گزارنا تھی شب غم گزار دی میں نے

— ساحر بھوپالی