ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے بس ایک سجدۂ شکرانہ پائے ساقی پر یہ مے کدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر اب اتنا سخت محبت سے انتقام نہ لے زمانے بھر میں ہیں چرچے مری تباہی کے میں ڈر رہا ہوں کہیں کوئی تیرا نام نہ لے مٹا دو شوق سے مجھ کو مگر کہیں تم سے زمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے میں جانوں جب کہ بجھا دے تو تشنگی دل کی وگرنہ آج سے دریا دلی کا نام نہ لے نہیں وہ حسن جو عاشق کو شاد کام کرے نہیں وہ عشق جو ناکامیوں سے کام نہ لے رکھوں امید کرم اس سے اب میں کیا ساحرؔ کہ جب نظر سے بھی ظالم مرا سلام نہ لے

— ساحر بھوپالی