سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے میں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کی میں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے رحمتیں اس کی تباہیٔ وفا پر جس نے مرتے مرتے ترے دامن کی ہوا مانگی ہے میں نے کچھ اور نہیں چاہا خدائے غم سے بس ترے حسن کی ہر ایک بلا مانگی ہے اپنے سر آپ نہ لیں دل شکنی کا الزام میں نے خود اپنی تباہی کی دعا مانگی ہے ہائے کیا چیز ہے ساحرؔ یہ مرا حسن طلب میں نے ہر چیز زمانے سے جدا مانگی ہے
ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے
ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے بہار میں بھی ہم اپنی بہار کو ترسے ملا نہ چین کسی کل انہیں بھی تڑپا کر قرار چھین کے وہ بھی قرار کو ترسے وہ سامنے تھے مگر چشم شوق اٹھ نہ سکی دم وصال بھی دیدار یار کو ترسے تمام زندگی گزری تھی عیش سے جن کی وہ بعد مرگ چراغ مزار کو ترسے بس اک نظر انہیں دیکھا تو یہ سزا پائی کہ عمر بھر کے لئے ہم قرار کو ترسے کیا نہ وصل کا وعدہ بھی اس ستم گر نے تمام عمر شب انتظار کو ترسے کچھ ایسی بے خودی چھائی تھی غم کی اے ساحرؔ کہ ہم شراب بھی پی کر خمار کو ترسے