ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

یاد آتے گئے بھلانے سے

یاد آتے گئے بھلانے سے درد بڑھتا گیا دبانے سے راز افشا ہوا چھپانے سے خامشی کم نہ تھی فسانے سے میں نے منت بھی کی مگر تم تو باز آئے نہ دل دکھانے سے کچھ مقدر ہی نارسا پایا مجھ کو شکوہ نہیں زمانے سے میری قسمت میں جو ہو صاف کہو کام چلتا نہیں بہانے سے کوئی درد آشنا نہیں ملتا کیا وفا اٹھ گئی زمانے سے ان کو پا کر بھی کچھ نہیں پایا باز آئے ہم ایسے پانے سے ہم کو مٹنا تھا ان پہ اے ساحرؔ مٹ گئے ہم کسی بہانے سے

— ساحر بھوپالی

محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے

محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے کہیں تو کسی کا خدا ہو نہ جائے خلش غم کی دل سے جدا ہو نہ جائے کہیں زندگی بے مزا ہو نہ جائے محبت مری بے خدا ہو نہ جائے کہیں پھر وہ ظالم خفا ہو نہ جائے کرے بھی تو کیا آہ مجبور الفت اگر راہ غم میں فنا ہو نہ جائے خدا کے لئے التجا یوں نہ ٹھکرا کہیں کوئی بے آسرا ہو نہ جائے نہ اتنے بھی صدمے دو پامال غم کو کہیں ساز دل بے صدا ہو نہ جائے نہ کرنا کبھی عرض غم ان سے ساحرؔ کہیں التجا بھی گلہ ہو نہ جائے

— ساحر بھوپالی