سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
یاد آتے گئے بھلانے سے
یاد آتے گئے بھلانے سے درد بڑھتا گیا دبانے سے راز افشا ہوا چھپانے سے خامشی کم نہ تھی فسانے سے میں نے منت بھی کی مگر تم تو باز آئے نہ دل دکھانے سے کچھ مقدر ہی نارسا پایا مجھ کو شکوہ نہیں زمانے سے میری قسمت میں جو ہو صاف کہو کام چلتا نہیں بہانے سے کوئی درد آشنا نہیں ملتا کیا وفا اٹھ گئی زمانے سے ان کو پا کر بھی کچھ نہیں پایا باز آئے ہم ایسے پانے سے ہم کو مٹنا تھا ان پہ اے ساحرؔ مٹ گئے ہم کسی بہانے سے
محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے
محبت کا سجدہ ادا ہو نہ جائے کہیں تو کسی کا خدا ہو نہ جائے خلش غم کی دل سے جدا ہو نہ جائے کہیں زندگی بے مزا ہو نہ جائے محبت مری بے خدا ہو نہ جائے کہیں پھر وہ ظالم خفا ہو نہ جائے کرے بھی تو کیا آہ مجبور الفت اگر راہ غم میں فنا ہو نہ جائے خدا کے لئے التجا یوں نہ ٹھکرا کہیں کوئی بے آسرا ہو نہ جائے نہ اتنے بھی صدمے دو پامال غم کو کہیں ساز دل بے صدا ہو نہ جائے نہ کرنا کبھی عرض غم ان سے ساحرؔ کہیں التجا بھی گلہ ہو نہ جائے