ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے وہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کو مٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے ہوس پرست نہیں بندۂ خلوص ہوں میں جو میرا اپنا ہو میں بھی ہوں بس اسی کے لئے خدا کی دین ہے وہ جس کو دولت غم دے کہ فیض عشق نہیں ہے یہ ہر کسی کے لئے بس اک نگاہ تمنا نواز ہو جائے ترس گیا ہوں محبت کی زندگی کے لئے زہے نصیب کہ آئی تو ان کے ہونٹوں پر تمام عمر میں رویا تھا جس ہنسی کے لئے یہ اپنا اپنا مقدر ہے اپنا اپنا نصیب کہ غم کسی کے لئے ہے خوشی کسی کے لئے کہاں وہ لذت پیہم کہ اب تو ظالم نے اٹھا رکھی ہیں جفائیں کبھی کبھی کے لئے رکھا نہ وحشت دل نے کہیں کا اے ساحرؔ نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے

— ساحر بھوپالی

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم تِرے عشق میں بے نشاں ہو گئے ہم فسانہ غمِ ہجر کا کہتے کہتے خود عبرت کی اک داستاں ہو گئے ہم شب و روز بڑھتی گئی سوزشِ غم یہاں تک کہ آتش بجاں ہو گئے ہم تِرے آستاں تک تو لائی تھی وحشت خدا جانے پھر گم کہاں ہو گئے ہم تصدق تِرے، آہ، اے دردِ الفت تجھے پا کے صاحبقراں ہو گئے ہم ہوا موجزن جب کہ دریائے الفت حدیں توڑ دیں بیکراں ہو گئے ہم بڑھا دردِ دل بھی تو کب آہ ساحرؔ کہ جب بے نیازِ فغاں ہو گئے ہم

— ساحر بھوپالی

سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی

سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی گویا ہے تیری یاد مسیحائے زندگی کیوں دم بدم فزوں ہے تمنائے زندگی شاید کہ غم ہوا ہے شناسائے زندگی کرتا پھر ان سے کون تقاضائے زندگی بس اک نظر میں ہو گیا سودائے زندگی اب کس لئے ہو مجھ کو تمنائے زندگی جب تو نہیں تو ہیچ ہے دنیائے زندگی وہ گردش مدام سے گھبرا نہ جائے کیوں جس کی امید و بیم میں کٹ جائے زندگی شہہ پا کے چشم مست کی پینا پڑی مجھے ہر چند تند و تلخ تھی صہبائے زندگی وہ تو اڑا کے لے گئی مجھ کو ہوائے شوق نا قابل عبور تھا صحرائے زندگی پروانہ کر کے ہمت مردانہ جل بجھے پھر کیوں نہ ایسی موت سے شرمائے زندگی بے آس کر کے چھوڑ گئی آرزو تو پھر راحت فزائے غم ہوئی ایذائے زندگی دل میں وفور شوق کا طوفاں لئے ہوئے پی کر چلا ہوں بزم سے صہبائے زندگی اب بے کسان شوق کی مجبوریاں نہ پوچھ تھی منحصر امید پہ احیائے زندگی اے جبر حسن دیکھ مرے بس میں کیا نہیں دنیا کے غم ہیں آج مہیائے زندگی ہر شوق پائمال ہے ہر آرزو تباہ اب کیجے کس امید پہ دعوائے زندگی ساحرؔ نہ جس کو جور زمانہ مٹا سکا وہ شرمسار مرگ ہوں رسوائے زندگی

— ساحر بھوپالی