سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے
نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے وہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کو مٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے ہوس پرست نہیں بندۂ خلوص ہوں میں جو میرا اپنا ہو میں بھی ہوں بس اسی کے لئے خدا کی دین ہے وہ جس کو دولت غم دے کہ فیض عشق نہیں ہے یہ ہر کسی کے لئے بس اک نگاہ تمنا نواز ہو جائے ترس گیا ہوں محبت کی زندگی کے لئے زہے نصیب کہ آئی تو ان کے ہونٹوں پر تمام عمر میں رویا تھا جس ہنسی کے لئے یہ اپنا اپنا مقدر ہے اپنا اپنا نصیب کہ غم کسی کے لئے ہے خوشی کسی کے لئے کہاں وہ لذت پیہم کہ اب تو ظالم نے اٹھا رکھی ہیں جفائیں کبھی کبھی کے لئے رکھا نہ وحشت دل نے کہیں کا اے ساحرؔ نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے
سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم
سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم تِرے عشق میں بے نشاں ہو گئے ہم فسانہ غمِ ہجر کا کہتے کہتے خود عبرت کی اک داستاں ہو گئے ہم شب و روز بڑھتی گئی سوزشِ غم یہاں تک کہ آتش بجاں ہو گئے ہم تِرے آستاں تک تو لائی تھی وحشت خدا جانے پھر گم کہاں ہو گئے ہم تصدق تِرے، آہ، اے دردِ الفت تجھے پا کے صاحبقراں ہو گئے ہم ہوا موجزن جب کہ دریائے الفت حدیں توڑ دیں بیکراں ہو گئے ہم بڑھا دردِ دل بھی تو کب آہ ساحرؔ کہ جب بے نیازِ فغاں ہو گئے ہم
سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی
سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی گویا ہے تیری یاد مسیحائے زندگی کیوں دم بدم فزوں ہے تمنائے زندگی شاید کہ غم ہوا ہے شناسائے زندگی کرتا پھر ان سے کون تقاضائے زندگی بس اک نظر میں ہو گیا سودائے زندگی اب کس لئے ہو مجھ کو تمنائے زندگی جب تو نہیں تو ہیچ ہے دنیائے زندگی وہ گردش مدام سے گھبرا نہ جائے کیوں جس کی امید و بیم میں کٹ جائے زندگی شہہ پا کے چشم مست کی پینا پڑی مجھے ہر چند تند و تلخ تھی صہبائے زندگی وہ تو اڑا کے لے گئی مجھ کو ہوائے شوق نا قابل عبور تھا صحرائے زندگی پروانہ کر کے ہمت مردانہ جل بجھے پھر کیوں نہ ایسی موت سے شرمائے زندگی بے آس کر کے چھوڑ گئی آرزو تو پھر راحت فزائے غم ہوئی ایذائے زندگی دل میں وفور شوق کا طوفاں لئے ہوئے پی کر چلا ہوں بزم سے صہبائے زندگی اب بے کسان شوق کی مجبوریاں نہ پوچھ تھی منحصر امید پہ احیائے زندگی اے جبر حسن دیکھ مرے بس میں کیا نہیں دنیا کے غم ہیں آج مہیائے زندگی ہر شوق پائمال ہے ہر آرزو تباہ اب کیجے کس امید پہ دعوائے زندگی ساحرؔ نہ جس کو جور زمانہ مٹا سکا وہ شرمسار مرگ ہوں رسوائے زندگی