ساحر بھوپالی

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی

26 January 2026

12سپیکرز
295لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا

ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا نہ تو عرض غم کا یارا نہ کہے بغیر چارا کہیں اس سے حال کیا جو نہ سمجھ سکے اشارا غم عشق کو یہ ذلت نہیں حشر تک گوارا میں نہیں ہوں موج مضطر جو ہو بے قرار ساحل میں غریق بحر غم ہوں مجھے ڈھونڈ لے کنارا مجھے کیا مٹا سکیں گے غم ہجر کے یہ طوفاں کہ ابھی ہے میرے بس میں تری یاد کا سہارا نہ کہیں کا مجھ کو رکھا تری آرزو نے ظالم میں جہاں بھی جا کے ڈوبا وہیں مل گیا کنارا مری سخت جانی برحق مگر اس کا پوچھنا کیا ترے ہجر کا زمانہ بنا جس طرح گزارہ میں حریف کشمکش ہوں ہے جگہ مری تلاطم جسے موت کی ہو خواہش وہی ڈھونڈ لے کنارا ترے پوچھنے کے صدقے غم دل کا ماجرا کیا ترے لطف نے جلایا تری بے رخی نے مارا مری آرزو اور ان کو کہیں خواب تو نہیں ہے یہ کہاں چمک رہا ہے مرے بخت کا ستارا ہے عجیب چیز ساحرؔ یہ مقدر وفا بھی کہ اسی کو ہم نے چاہا جو نہ ہو سکے ہمارا

— ساحر بھوپالی

یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے

یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے اور تصور میں وہ ظالم بے دھڑک آ جائے ہے بیٹھے بیٹھے یاد جب وہ بے وفا آ جائے ہے یوں لگے ہے جیسے دل پہلو سے نکلا جائے ہے اس کے رخ پر زلف جب شوخی سے لہرا جائے ہے کیا کہوں اس وقت دل میں کیا خیال آ جائے ہے کیا کہوں اس کی جدائی کیا غضب ڈھا جائے ہے جیتے جی ہی مجھ کو مرنے کا مزہ آ جائے ہے اتنا ہی نزدیک تجھ کو پا رہا ہوں دل سے میں جس قدر او بے وفا تو دور ہوتا جائے ہے جتنی جتنی بڑھ رہی ہیں عشق کی مجبوریاں اتنا اتنا زندگی کا لطف بڑھتا جائے ہے یاد آنا اس کا فرقت میں قیامت ہو گیا لاکھ سمجھاتا ہوں پر دل ہے کہ مچلا جائے ہے یوں نہ ٹھکرا التجا برباد دل پر رحم کر صبر کا دامن مرے ہاتھوں سے چھوٹا جائے ہے جب کمی محسوس ہوگی ان کو میری ہر جگہ وہ زمان ہجر میں نزدیک آیا جائے ہے جب نہیں ہوتا کوئی غم کا مری فریاد رس درد دل اشعار کے سانچوں میں ڈھلتا جائے ہے جب امنڈتا ہے دل پر غم وفور درد سے پھر کہاں پلکوں سے اشکوں کو سنبھالا جائے ہے ہو کے شرمندہ کوئی مائل ہو جس دم لطف پر بے خودیٔ شوق میں پھر کس سے سنبھلا جائے ہے اک پیام ناشنیدہ نالۂ نا آفرید ہائے وہ نغمہ جو ساز دل پہ گایا جائے ہے اشک بھر بھر آئے ہیں اس وقت آنکھوں میں مری اپنی بربادی کا منظر کس سے دیکھا جائے ہے شکوہ آ ہی جائے ہے ساحرؔ لب مایوس پر یورش غم سے دل ناکام گھبرا جائے ہے

— ساحر بھوپالی