سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا
ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا نہ تو عرض غم کا یارا نہ کہے بغیر چارا کہیں اس سے حال کیا جو نہ سمجھ سکے اشارا غم عشق کو یہ ذلت نہیں حشر تک گوارا میں نہیں ہوں موج مضطر جو ہو بے قرار ساحل میں غریق بحر غم ہوں مجھے ڈھونڈ لے کنارا مجھے کیا مٹا سکیں گے غم ہجر کے یہ طوفاں کہ ابھی ہے میرے بس میں تری یاد کا سہارا نہ کہیں کا مجھ کو رکھا تری آرزو نے ظالم میں جہاں بھی جا کے ڈوبا وہیں مل گیا کنارا مری سخت جانی برحق مگر اس کا پوچھنا کیا ترے ہجر کا زمانہ بنا جس طرح گزارہ میں حریف کشمکش ہوں ہے جگہ مری تلاطم جسے موت کی ہو خواہش وہی ڈھونڈ لے کنارا ترے پوچھنے کے صدقے غم دل کا ماجرا کیا ترے لطف نے جلایا تری بے رخی نے مارا مری آرزو اور ان کو کہیں خواب تو نہیں ہے یہ کہاں چمک رہا ہے مرے بخت کا ستارا ہے عجیب چیز ساحرؔ یہ مقدر وفا بھی کہ اسی کو ہم نے چاہا جو نہ ہو سکے ہمارا
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے اور تصور میں وہ ظالم بے دھڑک آ جائے ہے بیٹھے بیٹھے یاد جب وہ بے وفا آ جائے ہے یوں لگے ہے جیسے دل پہلو سے نکلا جائے ہے اس کے رخ پر زلف جب شوخی سے لہرا جائے ہے کیا کہوں اس وقت دل میں کیا خیال آ جائے ہے کیا کہوں اس کی جدائی کیا غضب ڈھا جائے ہے جیتے جی ہی مجھ کو مرنے کا مزہ آ جائے ہے اتنا ہی نزدیک تجھ کو پا رہا ہوں دل سے میں جس قدر او بے وفا تو دور ہوتا جائے ہے جتنی جتنی بڑھ رہی ہیں عشق کی مجبوریاں اتنا اتنا زندگی کا لطف بڑھتا جائے ہے یاد آنا اس کا فرقت میں قیامت ہو گیا لاکھ سمجھاتا ہوں پر دل ہے کہ مچلا جائے ہے یوں نہ ٹھکرا التجا برباد دل پر رحم کر صبر کا دامن مرے ہاتھوں سے چھوٹا جائے ہے جب کمی محسوس ہوگی ان کو میری ہر جگہ وہ زمان ہجر میں نزدیک آیا جائے ہے جب نہیں ہوتا کوئی غم کا مری فریاد رس درد دل اشعار کے سانچوں میں ڈھلتا جائے ہے جب امنڈتا ہے دل پر غم وفور درد سے پھر کہاں پلکوں سے اشکوں کو سنبھالا جائے ہے ہو کے شرمندہ کوئی مائل ہو جس دم لطف پر بے خودیٔ شوق میں پھر کس سے سنبھلا جائے ہے اک پیام ناشنیدہ نالۂ نا آفرید ہائے وہ نغمہ جو ساز دل پہ گایا جائے ہے اشک بھر بھر آئے ہیں اس وقت آنکھوں میں مری اپنی بربادی کا منظر کس سے دیکھا جائے ہے شکوہ آ ہی جائے ہے ساحرؔ لب مایوس پر یورش غم سے دل ناکام گھبرا جائے ہے