سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی نہ جانے اس گھڑی کس کس کی بگڑی بن گئی ہوگی وہ عالم کون سا ہوگا وہ دنیا کون سی ہوگی جہاں حد نظر تک زندگی ہی زندگی ہوگی اسی صورت سے شاید زندگیٔ غم سنور جائے مرے حق میں تمہاری دشمنی بھی دوستی ہوگی مجھے برباد کر کے بھی نہ ہوگی مہرباں مجھ پر خبر کیا تھی نگاہ ناز اتنی مطلبی ہوگی تغافل کا تمہارے اب یہی انجام ہونا ہے تماشا میری بربادی کا دنیا دیکھتی ہوگی تصور سے بھی اس کے کانپنے لگتا ہے دل میرا جدائی کی گھڑی بھی کس قیامت کی گھڑی ہوگی وہی وقت ہوگا اے ساحرؔ وفا کی کامیابی کا ہر اک شے میں انہیں محسوس جب میری کمی ہوگی
اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا
اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا اظہار شوق اس سے کیا ہائے کیا کیا راہ وفا کی سختیاں اے ہم نشیں نہ پوچھ مرمر کے میں نے حق محبت ادا کیا کب تک میں سہتا آپ کی یہ کم نگاہیاں کی میں نے ترک آرزو تو کیا برا کیا پہلے سکھائے نظروں کو آداب بندگی پھر ان کے پائے ناز پہ سجدہ ادا کیا میری ہنسی زمانہ اڑاتا نہ تھی مجال وحشت میں اپنے حال پہ میں خود ہنسا کیا کیا کیا دیے ہیں طعنے غم دل نے اس گھڑی بھولے سے اس نے جب کوئی وعدہ وفا کیا ساحرؔ بس اس قدر ہے تباہی کا ماجرا وہ بے خبر بنے رہے اور میں مٹا کیا