بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں تیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روح کمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں لا غم ہی ڈال دے مرے دست سوال میں میں کیا کروں خوشی کو جو تیری خوشی نہیں کچھ دیر اور رہنے دے خودداری جنوں دامن تو چاک ہونا ہے لیکن ابھی نہیں ساقی نگاہ ناز سے للہ کام لے سو جام پی چکا ہوں مگر بے خودی نہیں رکھنا پڑے گی تم کو تہی دامنی کی لاج مجھ کو کمی ضرور ہے تم کو کمی نہیں بہزادؔ صاف صاف میں کہتا ہوں حال دل شرمندۂ کمال مری شاعری نہیں

— بہزاد لکھنوی