بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

— بہزاد لکھنوی