بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

خوشی کا پیش کردہ کلام

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا خود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقی دامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میں نالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیا غم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکے عذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکا ہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاں پھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہ کیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکر ایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکی توبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیا تاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکی تم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا

— بہزاد لکھنوی