سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
تم یاد مجھے آ جاتے ہو
تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب صحن چمن میں کلیاں کھل کر پھول کی صورت ہوتی ہیں اور اپنی مہک سے ہر دل میں اک تخم لطافت بوتی ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب برکھا کی رت آتی ہے جب کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں جس وقت کہ رندوں کے دل سے ہو حق کی صدائیں اٹھتی ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب مینہ کی پھواریں پڑتی ہیں جب ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں جب صحن چمن سے گھبرا کر پی پی کی صدائیں آتی ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب چودھویں شب کا چاند نکل کر دہر منور کرتا ہے جب کوئی محبت کا مارا کچھ ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہے تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب رات کی ظلمت گھٹتی ہے جب صبح کا نور ابھرتا ہے جب کوئل کوکو کرتی ہے جب پنچھی پی پی کرتا ہے تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب کوئی کسی کا ہاتھ پکڑ کر سیر کو باہر جاتا ہے جب کوئی نگاہ شوق کے آگے رہ رہ کر گھبراتا ہے تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب چار نگاہیں کر کے کوئی محو تبسم ہوتا ہے جب کوئی محبت کا مارا اس کیف میں پڑ کر کھوتا ہے تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو افلاک پہ جب یہ لاکھوں تارے جگ مگ جگ مگ کرتی ہیں جب تارے گن گن کر دل والے ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب رات کا بڑھتا ہے سناٹا چین سے دنیا سوتی ہے تب آنکھ مری کھل جاتی ہے اور دل کی رگ رگ روتی ہے تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب روتا ہے بہزاد حزیںؔ وہ شاعر وہ دیوانہ سا وہ دل والا وہ سودائی وہ دنیا سے بیگانہ سا تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو