بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا ہم نے تو آہ کفر کو ایماں بنا لیا دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہ تیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا مجھ کو خبر نہیں مرے دل کو خبر نہیں کس کی نظر نے بندۂ احساں بنا لیا محسوس کر کے ہم نے محبت کا ہر الم خواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیے دامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دی ہر موج غم کو حاصل طوفاں بنا لیا جب ان کا نام آ گیا ہم مضطرب ہوئے آہوں کو اپنی زیست کا عنواں بنا لیا ہم نے تو اپنے دل میں وہ غم ہو کہ ہو الم جو کوئی آ گیا اسے مہماں بنا لیا آئینہ دیکھنے کی ضرورت نہ تھی کوئی اپنے کو خود ہی آپ نے حیراں بنا لیا اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و جگر بہزادؔ ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا

— بہزاد لکھنوی