بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانۂ دل کی کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے بہزادؔ ہر اک گام پہ اک سجدۂ مستی ہر ذرے کو سنگ در جانانہ بنا دے

— بہزاد لکھنوی