بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا

تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا شاید نظر کا بار اٹھایا نہ جا سکا ہم سے ترا تصور رنگیں ترا خیال کیں لاکھ کوششیں پہ بھلایا نہ جا سکا بزم تجلیات کی وارفتگی نہ پوچھ یہ ہوش تھا کہ ہوش میں آیا نہ جا سکا تھیں جلوہ گر جو آپ کی اس میں تجلیاں دل عشق کی نظر سے گرایا نہ جا سکا وہ تو ہزار رنگ سے پوچھا کئے مگر ہم سے ہی دل کا حال بتایا نہ جا سکا ناکام ہو گئی مری چشم پر آب بھی شعلہ بھڑک گیا تو بجھایا نہ جا سکا موجود ہو نگاہ تصور کے سامنے اب تو کہو کہ تم سے بلایا نہ جا سکا دست گدا نواز کا اس میں ہے کیا قصور دست طلب ہمیں سے بڑھایا نہ جا سکا اپنی نگاہ سے تو چھپایا تمہیں مگر دل کی نظر سے تم کو چھپایا نہ جا سکا ان کی عطا کی خیر ہو بہزادؔ مبتلا وہ کی عطا کہ جس کو بھلایا جا سکا

— بہزاد لکھنوی