سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
حسن سید
خوشی
شہزاد
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
وقاراحسن
آزاد کا پیش کردہ کلام
تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا
تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا شاید نظر کا بار اٹھایا نہ جا سکا ہم سے ترا تصور رنگیں ترا خیال کیں لاکھ کوششیں پہ بھلایا نہ جا سکا بزم تجلیات کی وارفتگی نہ پوچھ یہ ہوش تھا کہ ہوش میں آیا نہ جا سکا تھیں جلوہ گر جو آپ کی اس میں تجلیاں دل عشق کی نظر سے گرایا نہ جا سکا وہ تو ہزار رنگ سے پوچھا کئے مگر ہم سے ہی دل کا حال بتایا نہ جا سکا ناکام ہو گئی مری چشم پر آب بھی شعلہ بھڑک گیا تو بجھایا نہ جا سکا موجود ہو نگاہ تصور کے سامنے اب تو کہو کہ تم سے بلایا نہ جا سکا دست گدا نواز کا اس میں ہے کیا قصور دست طلب ہمیں سے بڑھایا نہ جا سکا اپنی نگاہ سے تو چھپایا تمہیں مگر دل کی نظر سے تم کو چھپایا نہ جا سکا ان کی عطا کی خیر ہو بہزادؔ مبتلا وہ کی عطا کہ جس کو بھلایا جا سکا