سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے
محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے خلش دل میں جہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے ترے جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک موج تہ نشیں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگئ عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ میں یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہیں ظاہر نہیں ہوتی کہیں معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسیں جو چیز ہوتی ہے حسیں معلوم ہوتی ہے امیدیں توڑ دے میرے دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مرے ساقی یہاں کی سر زمیں خلد بریں معلوم ہوتی ہے ارے اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو جس کو کہتا ہے یہ شے دل میں نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پائے نازک پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزادؔ یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے
تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے
تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے اللہ ری بے نقابی اس جان مدعا کی میری نگاہ حسرت حیران ہو نہ جائے میری طرف نہ دیکھو اپنی نظر کو روکو دنیائے عاشقی میں ہیجان ہو نہ جائے پلکوں پہ رک گیا ہے آ کر جو ایک آنسو یہ قطرہ بڑھتے بڑھتے طوفان ہو نہ جائے حد ستم تو ہے بھی حد وفا نہیں ہے ظالم ترا ستم بھی احسان ہو نہ جائے ہوتی نہیں ہے وقعت ہوتی نہیں ہے عزت جب تک کہ کوئی انساں انسان ہو نہ جائے اس وقت تک مکمل ہوتا نہیں ہے کوئی جب تک کہ خود کو اپنی پہچان ہو نہ جائے بہزادؔ اس لئے میں کہتا نہیں ہوں دل کی ڈرتا ہوں سن کے دنیا حیران ہو نہ جائے