بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے خلش دل میں جہاں پر تھی وہیں معلوم ہوتی ہے ترے جلووں سے ٹکرا کر نہیں معلوم ہوتی ہے نظر بھی ایک موج تہ نشیں معلوم ہوتی ہے نقوش پا کے صدقے بندگئ عشق کے قرباں مجھے ہر سمت اپنی ہی جبیں معلوم ہوتی ہے مری رگ رگ میں یوں تو دوڑتی ہے عشق کی بجلی کہیں ظاہر نہیں ہوتی کہیں معلوم ہوتی ہے یہ اعجاز نظر کب ہے یہ کب ہے حسن کی کاوش حسیں جو چیز ہوتی ہے حسیں معلوم ہوتی ہے امیدیں توڑ دے میرے دل مضطر خدا حافظ زبان حسن پر اب تک نہیں معلوم ہوتی ہے اسے کیوں مے کدہ کہتا ہے بتلا دے مرے ساقی یہاں کی سر زمیں خلد بریں معلوم ہوتی ہے ارے اے چارہ گر ہاں ہاں خلش تو جس کو کہتا ہے یہ شے دل میں نہیں دل کے قریں معلوم ہوتی ہے کسی کے پائے نازک پر جھکی ہے اور نہیں اٹھتی مجھے بہزادؔ یہ اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے

— بہزاد لکھنوی

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے اللہ ری بے نقابی اس جان مدعا کی میری نگاہ حسرت حیران ہو نہ جائے میری طرف نہ دیکھو اپنی نظر کو روکو دنیائے عاشقی میں ہیجان ہو نہ جائے پلکوں پہ رک گیا ہے آ کر جو ایک آنسو یہ قطرہ بڑھتے بڑھتے طوفان ہو نہ جائے حد ستم تو ہے بھی حد وفا نہیں ہے ظالم ترا ستم بھی احسان ہو نہ جائے ہوتی نہیں ہے وقعت ہوتی نہیں ہے عزت جب تک کہ کوئی انساں انسان ہو نہ جائے اس وقت تک مکمل ہوتا نہیں ہے کوئی جب تک کہ خود کو اپنی پہچان ہو نہ جائے بہزادؔ اس لئے میں کہتا نہیں ہوں دل کی ڈرتا ہوں سن کے دنیا حیران ہو نہ جائے

— بہزاد لکھنوی