بہزاد لکھنوی

یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی

18 April 2026

14سپیکرز
217لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں

اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں جو حق ہے زندگی کا ادا کر رہا ہوں میں تم ہو جفا نواز جفا کر رہے ہو تم میں ہوں وفا پرست وفا کر رہا ہوں میں تم سے تو مجھ کو کوئی شکایت نہیں رہی قسمت کی خوبیوں کا گلہ کر رہا ہوں میں ہاں دیجئے سزا کہ سزاوار عشق ہوں ہاں ہاں میں کر رہا ہوں خطا کر رہا ہوں میں وہ دن گئے کہ نغموں سے ہی کھیلتا تھا دل اب نالہ ہائے ہوش ربا کر رہا ہوں میں نکلا ہوں جستجو میں غم دل کے ساتھ ساتھ رہزن کو آج راہنما کر رہا ہوں میں اب آپ اپنی شان کرم کو دکھائیے میری ہی خطا ہے کہ خطا کر رہا ہوں میں شاید اسی طرح سے ملے کچھ سکون زیست پہلو سے اپنے غم کو جدا کر رہا ہوں میں بہزادؔ تم بھی دیکھ رہے ہو گواہ ہو کب سے بلند دست دعا کر رہا ہوں میں

— بہزاد لکھنوی