کلامِ شاعر
- 01 کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
- 02 حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
- 03 آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے
- 04 مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ
- 05 دل کو تسکین یار لے ڈوبی
- 06 اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے
- 07 اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
- 08 ہوش زدہ نادان سے ڈر
- 09 غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا
- 10 وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
- 11 تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے
- 12 ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
- 13 جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
- 14 کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
- 15 اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
- 16 یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
- 17 ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی