search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
راکب مختار
›
شاعری
راکب مختار کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی
عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو
سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
یاد آتے ہیں بہت جان سے پیارے ہم کو
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
ہوا نے آکے مجھے مژدہ رہائی دیا
عجیب لوگ ہیں پہلے مجھے پکارتے ہیں
اے پیاس پانیوں کو مثالی ملال دے
حضور وقت کے سائے ہیں ڈھلتے رہتے ہیں
عبا قبا کے پسِ پردہ اچھے کاموں سے
تو بھی بیٹھے گا نہیں مسندِ سلطانی پر
بہت اداس فلک ہے زمیں پریشاں ہے
جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے
پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے
چھوڑ جائیں گے یہ گھر سارے اگر لگ جائے
کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے
شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے
لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
یہ سوچتے ہوئے حیرانیوں نے مار دیا
دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں
ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے
یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں
خوں کی ترسیل میں دقت کا سبب بنتی ہو
دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے
دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے
رزق عشق فراہم باہم کیا جائے
شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے
جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے
تو مجھ سے دور چلا جائے گا ? خدا نہ کرے
یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں
بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر
جہاں پہ پینے پلانے کا اہتمام نہ ہو
آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے
شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے
شاعر کے بارے میں
بھکاری گھر کے وڈیرے کو مل گئی شاہی الٹ کے تاج کو کاسہ بنائے پھرتا ہے
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں
‹ اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
‹ ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی
‹ عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو
‹ سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
‹ میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے