انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل ہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں عیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد ایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں عشق اگر کیجئے دل کیجئے کس سے خالی درد و غم کم نہیں اس دور میں غمخوار کہاں قیدی اس سلسلۂ زلف کے اب کم ہیں یقیںؔ ہیں دل آزار بہت جان گرفتار کہاں

— انعام اللہ خاں یقین

ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی

ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی کرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئی نظر آتا نہیں ثابت گریباں ایک غنچہ کا چمن پر یہ ستم کرتا ہے اے باد صبا کوئی گل و لالہ سے شور انگیز تر ہے گی حنا تیری نہ ہو دیوانہ کیوں کر دیکھ تیرے دست و پا کوئی عجب سج سے کیا ہے قتل مجھ کو اس کو مت ٹوکو طلب کرتا ہے ایسے قاتلوں سے خوں بہا کوئی گزر جا وصل سے گر ہجر میں دیکھے رضا اس کی محبت میں یقیںؔ لیتا ہے نام مدعا کوئی

— انعام اللہ خاں یقین