سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل ہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں عیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد ایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں عشق اگر کیجئے دل کیجئے کس سے خالی درد و غم کم نہیں اس دور میں غمخوار کہاں قیدی اس سلسلۂ زلف کے اب کم ہیں یقیںؔ ہیں دل آزار بہت جان گرفتار کہاں
ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی
ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی کرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئی نظر آتا نہیں ثابت گریباں ایک غنچہ کا چمن پر یہ ستم کرتا ہے اے باد صبا کوئی گل و لالہ سے شور انگیز تر ہے گی حنا تیری نہ ہو دیوانہ کیوں کر دیکھ تیرے دست و پا کوئی عجب سج سے کیا ہے قتل مجھ کو اس کو مت ٹوکو طلب کرتا ہے ایسے قاتلوں سے خوں بہا کوئی گزر جا وصل سے گر ہجر میں دیکھے رضا اس کی محبت میں یقیںؔ لیتا ہے نام مدعا کوئی