سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے کسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے گئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سے زمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے اکیلا کیونکہ لگتا بستیوں میں دل بچارے کا نہ ہوتا نقش شیریں کا اگر فرہاد کے آگے اگر دھڑکا ہو جنت میں تو بد تر ہے جہنم سے ہمیں گل خار سا لگتا ہے اس صیاد کے آگے یقیںؔ اس قد کے آگے اس طرح سے سرو رسوا ہے درختان بیابانی ہیں جوں شمشاد کے آگے
پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم
پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم باغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھوم تیری آنکھوں نے نشے میں اس طرح مارا ہے جوش ڈالتے ہیں جس طرح بد مست مے خانہ میں دھوم چاند کے پرتو سے جوں پانی میں ہو جلوے کا حشر تیرے منہ کے عکس نے ڈالی ہے پیمانے میں دھوم ابر جیسے مست کو شورش میں لاوے دل کے بیچ مچ گئی اک بار ان بالوں کے کھل جانے میں دھوم بوئے مے آتی ہے منہ سے جوں کلی سے بوئے گل کیوں یقیںؔ سے جان کرتے ہو مکر جانے میں دھوم