انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے

کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے کسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے گئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سے زمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے اکیلا کیونکہ لگتا بستیوں میں دل بچارے کا نہ ہوتا نقش شیریں کا اگر فرہاد کے آگے اگر دھڑکا ہو جنت میں تو بد تر ہے جہنم سے ہمیں گل خار سا لگتا ہے اس صیاد کے آگے یقیںؔ اس قد کے آگے اس طرح سے سرو رسوا ہے درختان بیابانی ہیں جوں شمشاد کے آگے

— انعام اللہ خاں یقین

پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم

پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم باغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھوم تیری آنکھوں نے نشے میں اس طرح مارا ہے جوش ڈالتے ہیں جس طرح بد مست مے خانہ میں دھوم چاند کے پرتو سے جوں پانی میں ہو جلوے کا حشر تیرے منہ کے عکس نے ڈالی ہے پیمانے میں دھوم ابر جیسے مست کو شورش میں لاوے دل کے بیچ مچ گئی اک بار ان بالوں کے کھل جانے میں دھوم بوئے مے آتی ہے منہ سے جوں کلی سے بوئے گل کیوں یقیںؔ سے جان کرتے ہو مکر جانے میں دھوم

— انعام اللہ خاں یقین