انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع

دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع فصل گل نزدیک آئی اے گریباں الوداع میکدہ سے قصد مکہ کا کیا ہے کیا کریں توبہ ہم سے ہو گئی اے مے پرستاں الوداع نئیں ہمیں فرصت کہ اب کے سال باندھیں آشیاں باغباں کا حکم یوں ہے اے گلستاں الوداع ہم سے تھا ویرانہ ٹک آباد سو ہم بھی چلے اب خدا حافظ تمہارا اے غزالاں الوداع ناتوانی سے اسے جور و جفا کی تاب نئیں اب یقیںؔ بوڑھا ہوا اے نوجواناں الوداع

— انعام اللہ خاں یقین

نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو

نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو نہیں کی جی سے میں نے تو بہ پیمانے سے کہہ دیجو جو کرنا ہے تو اپنی فکر کر لے، نو بہار آئی خدا کے واسطے یہ بات دیوانے سے کہہ دیجو کوئی یہ چاند سا منھ چھوڑ کر عاشق ہو شعلہ کا گزر آتش پرستی سے ، یہ پروانے سے کہہ دیجو رکھا ہے گھیر، ان شہری غزالوں نے میرے دل کو پھنسا ہوں اب تو بستی میں یہ ویرانے سے کہہ دیجو کیا سجدہ، یقیں نے دیکھ اس محراب ابرو کو برہمن تو رہا مسجد میں، بت خانے سے کہہ دیجو

— انعام اللہ خاں یقین