سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع
دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع فصل گل نزدیک آئی اے گریباں الوداع میکدہ سے قصد مکہ کا کیا ہے کیا کریں توبہ ہم سے ہو گئی اے مے پرستاں الوداع نئیں ہمیں فرصت کہ اب کے سال باندھیں آشیاں باغباں کا حکم یوں ہے اے گلستاں الوداع ہم سے تھا ویرانہ ٹک آباد سو ہم بھی چلے اب خدا حافظ تمہارا اے غزالاں الوداع ناتوانی سے اسے جور و جفا کی تاب نئیں اب یقیںؔ بوڑھا ہوا اے نوجواناں الوداع
نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو
نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو نہیں کی جی سے میں نے تو بہ پیمانے سے کہہ دیجو جو کرنا ہے تو اپنی فکر کر لے، نو بہار آئی خدا کے واسطے یہ بات دیوانے سے کہہ دیجو کوئی یہ چاند سا منھ چھوڑ کر عاشق ہو شعلہ کا گزر آتش پرستی سے ، یہ پروانے سے کہہ دیجو رکھا ہے گھیر، ان شہری غزالوں نے میرے دل کو پھنسا ہوں اب تو بستی میں یہ ویرانے سے کہہ دیجو کیا سجدہ، یقیں نے دیکھ اس محراب ابرو کو برہمن تو رہا مسجد میں، بت خانے سے کہہ دیجو