انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں

دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں کوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیں ہوائے گرم کے لگنے سے کب پتھر پگھلتا ہے یہ نالے ان بتوں کے دل میں کب تاثیر کرتے ہیں خدا کی بندگی کہئے اسے یا عشق معشوقی یہ نسبت ایک ہے سو سو طرح تعبیر کرتے ہیں دوانے ہیں سیانے چھوڑ دو تم نقش کو ان کے پرائے گھر کی پریوں کے تئیں تسخیر کرتے ہیں نگہ کرنے میں ان کے کام ہوتا ہے تمام اس کا یقیںؔ کے حق میں یہ خوباں بہت تقصیر کرتے ہیں

— انعام اللہ خاں یقین

سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا

سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا ہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا مجھے دکھ پھر دیا تو نے منڈا کر سبزۂ خط کو جراحت کو مرے وہ مرہم زنگار بہتر تھا مجھے زنجیر کرنا کیا مناسب تھا بہاراں میں کہ گل ہاتھوں میں اور پاؤں میں میرے خار بہتر تھا ہموں نے ہجر سے کچھ وصل میں دھڑکے بہت دیکھے ہمارے حق میں اس راحت سے وہ آزار بہتر تھا مرا دل مر گیا جس دن کہ نظارہ سے باز آیا یقیںؔ پرہیز اگر کرتا تو یہ بیمار بہتر تھا

— انعام اللہ خاں یقین

کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں

کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں سجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیں ہے یہ دل ناصح بتاں کا جلوہ گاہ اس سے نہ بول توڑ مت سنگ جفا سے اس پری خانے کے تئیں ہجر میں جینے سے بہتر ہے ہلاک روز وصل یہ طرح کیا خوب راس آئی ہے پروانے کے تئیں لائیے مے کرتی ہے تعمیر دل ہائے خراب تا ابد رکھیو خدا معمور میخانے کے تئیں اٹھ گیا کہتے ہیں دیوانہ یقینؔ دنیا سے ہائے ان نے کیا آباد کر رکھا تھا ویرانے کے تئیں

— انعام اللہ خاں یقین