سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں کوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیں ہوائے گرم کے لگنے سے کب پتھر پگھلتا ہے یہ نالے ان بتوں کے دل میں کب تاثیر کرتے ہیں خدا کی بندگی کہئے اسے یا عشق معشوقی یہ نسبت ایک ہے سو سو طرح تعبیر کرتے ہیں دوانے ہیں سیانے چھوڑ دو تم نقش کو ان کے پرائے گھر کی پریوں کے تئیں تسخیر کرتے ہیں نگہ کرنے میں ان کے کام ہوتا ہے تمام اس کا یقیںؔ کے حق میں یہ خوباں بہت تقصیر کرتے ہیں
سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا
سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھا ہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا مجھے دکھ پھر دیا تو نے منڈا کر سبزۂ خط کو جراحت کو مرے وہ مرہم زنگار بہتر تھا مجھے زنجیر کرنا کیا مناسب تھا بہاراں میں کہ گل ہاتھوں میں اور پاؤں میں میرے خار بہتر تھا ہموں نے ہجر سے کچھ وصل میں دھڑکے بہت دیکھے ہمارے حق میں اس راحت سے وہ آزار بہتر تھا مرا دل مر گیا جس دن کہ نظارہ سے باز آیا یقیںؔ پرہیز اگر کرتا تو یہ بیمار بہتر تھا
کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں
کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیں سجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیں ہے یہ دل ناصح بتاں کا جلوہ گاہ اس سے نہ بول توڑ مت سنگ جفا سے اس پری خانے کے تئیں ہجر میں جینے سے بہتر ہے ہلاک روز وصل یہ طرح کیا خوب راس آئی ہے پروانے کے تئیں لائیے مے کرتی ہے تعمیر دل ہائے خراب تا ابد رکھیو خدا معمور میخانے کے تئیں اٹھ گیا کہتے ہیں دیوانہ یقینؔ دنیا سے ہائے ان نے کیا آباد کر رکھا تھا ویرانے کے تئیں