سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے
گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیے زباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیے تبسم میں جو اس کا منہ کھلا دل بندھ گیا ووہیں مرا دل لے گیا ہنستے ہی ہنستے یار کیا کہیے اگر اس کی جگہ پہلو میں ہوتا خار بہتر تھا بہت دیتا ہے میرا دل مجھے آزار کیا کہیے جلا کر آشیاں اس فصل گل میں باغباں میرا جہنم تو نے مجھ پر کر دیا گلزار کیا کہیے یقیںؔ کے واقعے کی سن خبر وہ بد گماں بولا یہ دیوانہ تو کچھ ایسا نہ تھا بیمار کیا کہیے
تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت
تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت نگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبت یہ جیوے ہجر میں وہ وصل میں بھی جی نہیں سکتا تکلف بر طرف بلبل کو پروانے سے کیا نسبت یہ وہ موتی ہیں جن کی سیپیاں آنکھیں ہیں عاشق کی مرے آنسو کو مروارید کے دانے سے کیا نسبت ارے دل مت توقع دلبروں سے رکھ ترحم کی لہو پیتے ہیں جو شخص ان کو غم کھانے سے کیا نسبت گل اس کا داغ ہے اور سرو اس کا آہ موزوں ہے یقیںؔ سے نوحہ گر کو باغ میں جانے سے کیا نسبت
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملی چُھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے برف گرماتی رہی، دھوپ اماں دیتی رہی دل کی نگری میں جو موسم تھے، ترے موسم تھے مری پونجی مرے اپنے ہی لہو کی تھی کشید زندگی بھر کی کمائی میرے اپنے غم تھے آنسوؤں نے عجب انداز میں سیراب کیا کہیں بھیگے ہوئے آنچل، کہیں باطن نم تھے جن کے دامن کی ہوا میرے چراغوں پہ چلی وہ کوئی اور کہاں تھے وہ مرے ہمدم تھے میں نے پایا تھا بس اتنا ہی صداقت کا سُراغ دُور تک پھیلتے خاکے تھے، مگر مبہم تھے میں نے گرنے نہ دیا مر کے بھی معیارِ وقار ڈوبتے وقت مرے ہاتھ مرے پرچم تھے میں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہا کائناتوں کے سب امکاں مرے اندر ضم تھے عمر بھر خاک میں جو اشک ہوئے جذب ندیم برگِ گل پر کبھی ٹپکے تو وہی شبنم تھے