سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا
اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا ملتے ہی میرے مجھ سے یہ دل آشنا نہ تھا اب جوں سرشک خاک سے سکتا نہیں ہوں اٹھ آگے میں دل کی آنکھ سے اتنا گرا نہ تھا ناصح جو یہ نصیحت بے جا نہ میں سنی معذور رکھ تو مجھ کو مرا دل بجا نہ تھا مرنے کی طرح میں نے جو یہ اختیار کی دیکھا تو زندگی میں مزا کچھ رہا نہ تھا جو کچھ کہیں یہ تجھ کو یقیںؔ ہے سزا تری بندہ جو تو بتوں کا ہوا کیا خدا نہ تھا
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی باغباں اب کے اجاڑے تو گلستاں تو سہی ابر میں دیتا نہیں تو مجھ کو اے ساقی شراب میں کروں شیشہ کو تیرے سنگ باراں تو سہی اب تو ناصح کے تئیں سینے دو میرا چاک جیب تار تار اس ضد سے کر دوں میں گریباں تو سہی لوگ کب خاطر میں لاتے ہیں مرے ویرانے کو اشک خوں سے باغ کر ڈالوں بیاباں تو سہی اپنے بندوں کو جلا کر خاک کرتے ہیں یقیںؔ ان بتوں کی ضد سے ہو جاؤں مسلماں تو سہی