انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا

اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا ملتے ہی میرے مجھ سے یہ دل آشنا نہ تھا اب جوں سرشک خاک سے سکتا نہیں ہوں اٹھ آگے میں دل کی آنکھ سے اتنا گرا نہ تھا ناصح جو یہ نصیحت بے جا نہ میں سنی معذور رکھ تو مجھ کو مرا دل بجا نہ تھا مرنے کی طرح میں نے جو یہ اختیار کی دیکھا تو زندگی میں مزا کچھ رہا نہ تھا جو کچھ کہیں یہ تجھ کو یقیںؔ ہے سزا تری بندہ جو تو بتوں کا ہوا کیا خدا نہ تھا

— انعام اللہ خاں یقین

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی باغباں اب کے اجاڑے تو گلستاں تو سہی ابر میں دیتا نہیں تو مجھ کو اے ساقی شراب میں کروں شیشہ کو تیرے سنگ باراں تو سہی اب تو ناصح کے تئیں سینے دو میرا چاک جیب تار تار اس ضد سے کر دوں میں گریباں تو سہی لوگ کب خاطر میں لاتے ہیں مرے ویرانے کو اشک خوں سے باغ کر ڈالوں بیاباں تو سہی اپنے بندوں کو جلا کر خاک کرتے ہیں یقیںؔ ان بتوں کی ضد سے ہو جاؤں مسلماں تو سہی

— انعام اللہ خاں یقین