انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج کام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبح کیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج حق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دل کیوں کہ ہو زنجیر بن ایسے دیوانے کا علاج گر طہارت چاہتا ہے تو خدا کے واسطے کاٹ سر لوہو سے اپنے کر نہانے کا علاج شیشۂ دل کے تئیں اپنے سنبھالے رکھ یقیںؔ پھر کرے گا کون اس کے ٹوٹ جانے کا علاج

— انعام اللہ خاں یقین

شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے

شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے جو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانے جدا ہم سے ہوا تھا ایک دن جو اپنے یاروں میں خبر پھر کچھ نہ پائی کیا ہوا واقع خدا جانے نہ رکھ اے ابر تو سر پر ہمارے بار منت کا وہ بادل اور ہیں جو آگ کو دل کی بجھا جانے نہ رکھ اے دل تو امید وفا ان بے وفاؤں سے خدا سے ہے وہ بیگانہ جو بت کو آشنا جانے جنوں نے اس کے گل سے بلبلوں تک شور ڈالا ہے یقیںؔ سا ہو کوئی تب اس طرح دھومیں مچا جانے

— انعام اللہ خاں یقین