سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج کام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبح کیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج حق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دل کیوں کہ ہو زنجیر بن ایسے دیوانے کا علاج گر طہارت چاہتا ہے تو خدا کے واسطے کاٹ سر لوہو سے اپنے کر نہانے کا علاج شیشۂ دل کے تئیں اپنے سنبھالے رکھ یقیںؔ پھر کرے گا کون اس کے ٹوٹ جانے کا علاج
شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے
شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے جو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانے جدا ہم سے ہوا تھا ایک دن جو اپنے یاروں میں خبر پھر کچھ نہ پائی کیا ہوا واقع خدا جانے نہ رکھ اے ابر تو سر پر ہمارے بار منت کا وہ بادل اور ہیں جو آگ کو دل کی بجھا جانے نہ رکھ اے دل تو امید وفا ان بے وفاؤں سے خدا سے ہے وہ بیگانہ جو بت کو آشنا جانے جنوں نے اس کے گل سے بلبلوں تک شور ڈالا ہے یقیںؔ سا ہو کوئی تب اس طرح دھومیں مچا جانے