سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں ہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں یار جب پہنے جواہر کر دے اے دل جی نثار جل چک اے پروانے یہ رنگیں چراغاں پھر کہاں اس طرح صیاد کب آزاد چھوڑے گا تمہیں بلبلو دھومیں مچا لو یہ گلستاں پھر کہاں ہے بہشتوں میں یقیںؔ سب کچھ ولیکن درد نئیں بھر کے دل رو لیجئے یہ چشم گریاں پھر کہاں
کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض
کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض نیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرض گرمی اہل بزم سے مت کر کہ میں ہوتا ہوں داغ شمع کی خدمت میں ہے اتنی ہی پروانے کی عرض شیشہ مجھ دل سا نہ پاوے اور تری آنکھوں سا جام لے اگر ساقی ہزاروں سال میخانے کی عرض دل کو ویراں مت کرو یہ ہے جنوں کا پاۓ تخت اے پری زادوں کبھو سنئے بھی دیوانے کی عرض فصل جاتی ہے یقیںؔ اور باغباں سے ایک یار کوئی کرتا نیں ہمارے باغ میں جانے کی عرض
جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے نہیں کام عشق سے کچھ تو پھر حیات کیا ہے میری خبر کس طرح دے میرا ظاہری لبادہ میری روح بتائے گی میری اصل ذات کیا ہے کافی نہیں تھا کہنا کے میں بندہ خدا ہوں کیوں پوچھتے ہو میرا مسلک فرقہ ذات کیا ہے سب بات کررہے ہیں ہر بات پہ دلیلیں اور یاد تک نہیں ہے کہ دل کی بات کیا ہے تیرے عشق سے فروزاں میرے دل کے آبگینے تو ساتھ ہے اگر تو یہ کائنات کیا ہے۔ محمد احمد بن راشد