انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں

عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں ہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں یار جب پہنے جواہر کر دے اے دل جی نثار جل چک اے پروانے یہ رنگیں چراغاں پھر کہاں اس طرح صیاد کب آزاد چھوڑے گا تمہیں بلبلو دھومیں مچا لو یہ گلستاں پھر کہاں ہے بہشتوں میں یقیںؔ سب کچھ ولیکن درد نئیں بھر کے دل رو لیجئے یہ چشم گریاں پھر کہاں

— انعام اللہ خاں یقین

کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض

کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرض نیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرض گرمی اہل بزم سے مت کر کہ میں ہوتا ہوں داغ شمع کی خدمت میں ہے اتنی ہی پروانے کی عرض شیشہ مجھ دل سا نہ پاوے اور تری آنکھوں سا جام لے اگر ساقی ہزاروں سال میخانے کی عرض دل کو ویراں مت کرو یہ ہے جنوں کا پاۓ تخت اے پری زادوں کبھو سنئے بھی دیوانے کی عرض فصل جاتی ہے یقیںؔ اور باغباں سے ایک یار کوئی کرتا نیں ہمارے باغ میں جانے کی عرض

— انعام اللہ خاں یقین

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے

جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے نہیں کام عشق سے کچھ تو پھر حیات کیا ہے میری خبر کس طرح دے میرا ظاہری لبادہ میری روح بتائے گی میری اصل ذات کیا ہے کافی نہیں تھا کہنا کے میں بندہ خدا ہوں کیوں پوچھتے ہو میرا مسلک فرقہ ذات کیا ہے سب بات کررہے ہیں ہر بات پہ دلیلیں اور یاد تک نہیں ہے کہ دل کی بات کیا ہے تیرے عشق سے فروزاں میرے دل کے آبگینے تو ساتھ ہے اگر تو یہ کائنات کیا ہے۔ محمد احمد بن راشد

— نا معلوم