انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا ہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے نہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا یقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے کہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا

— انعام اللہ خاں یقین