انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے

عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے نہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھے حسن اور عشق میں ایک طور سے نسبت ہے ضرور چشم بیمار تجھے دی ہے دل زار مجھے یار آیا پہ مجھے ہوش نہ تھا کیا کہئے نہ کیا اس دل دشمن نے خبردار مجھے سنگ طفلاں کی میں امید پہ ہوں دیوانہ تسپہ دیتے ہیں تغافل سے یہ آزار مجھے جب سے نظارہ کیا ترک ہوا ہوں دل سرد گرم رکھتا تھا یقیںؔ شعلۂ دیدار مجھے

— انعام اللہ خاں یقین

کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے

کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے ہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووے کچھ رنگ نہیں نغمہ و آہنگ میں اس کے بلبل جو بہاراں میں گرفتار نہ ہووے دل جل جو گیا خوب ہوا سوختہ بہتر وہ جنس کوئی جس کا خریدار نہ ہووے شمشاد کو دیوے ہے قضا وار کے تجھ پر جو جامہ ترے قد پہ سزا وار نہ ہووے نیں باغ محبت میں یقیںؔ اس کو کہیں جا جس دل میں کہ داغوں ستی گلزار نہ ہووے

— انعام اللہ خاں یقین