سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
آزاد
اظہرنسیم
انتظار حسین
ایم سعید
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
راشد نور
سید جینٹلمین
صباگل
فخر
فیض اللہ
ماہر
ملک
نایاب
ندیم بخاری
نگاہ بسمل
واجد علی
وسیم بخاری
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبے جامۂ احرام کے دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر دیکھیے کب دن پھریں حمام کے عشق نے غالبؔ نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے