مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

— مرزا غالب

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبے جامۂ احرام کے دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر دیکھیے کب دن پھریں حمام کے عشق نے غالبؔ نکما کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

— مرزا غالب