سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا