مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک

— مرزا غالب

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

— مرزا غالب