سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے حوران خلد میں تری صورت مگر ملے اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے اے ساکنان کوچۂ دل دار دیکھنا تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے
وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے ُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیا ویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے کیا ہے اگر وہ آکے کہے " تم سے پیار ہے" اور کر دے سارے وسوسے زائل ، دماغ کے ہم خود ہی چاہتے تھے ہرا ہی رہے فتور سو زخم لاعلاج ہیں گھائل دماغ کے شہرِ جنوں کو جاتے ہوئے رک گئے تھے ہم کچھ مشورے تھے راہ میں حائل دماغ کے