مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے حوران خلد میں تری صورت مگر ملے اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے اے ساکنان کوچۂ دل دار دیکھنا تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے

— مرزا غالب

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا

— مرزا غالب

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے ُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیا ویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے کیا ہے اگر وہ آکے کہے " تم سے پیار ہے" اور کر دے سارے وسوسے زائل ، دماغ کے ہم خود ہی چاہتے تھے ہرا ہی رہے فتور سو زخم لاعلاج ہیں گھائل دماغ کے شہرِ جنوں کو جاتے ہوئے رک گئے تھے ہم کچھ مشورے تھے راہ میں حائل دماغ کے

— کومل جوئیہ