مرزا غالب

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)

02 December 2025

22سپیکرز
180لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

— مرزا غالب

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں دل آشفتگاں خال کنج دہن کے سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں ترے سرو قامت سے اک قد آدم قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں تماشا کہ اے محو آئینہ داری تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں سراغ تف نالہ لے داغ دل سے کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

— مرزا غالب

قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا

قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا، میں" آپ"وہ "جناب"سےآگےنہیں بڑھا، مدت ھوئی کتابِ محبت شروع کیے، لیکن پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا، لمبی مسافتیں ہیں مگر اس سوار کا، پاؤں ابھی رکاب سےآگے نہیں بڑھا، طولِ کلام کے لیےمیں نے کیے سوال، وہ مختصر جواب سے آگے نہیں بڑھا، رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں تو خوب ھیں، دیدار ابھی نقاب سے آگے نہیں بڑھا، وہ لذتِ گناہ سے محروم رہ گیاجو، خواھشِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا.

— نا معلوم